امریکی صدر Donald Trump نے White House میں پریس ڈنر کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق حملہ آور نے تقریباً 50 گز کے فاصلے سے حملے کی کوشش کی، تاہم وہ اس نتیجے پر نہیں پہنچے کہ اس کا ایران جنگ سے کوئی تعلق ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے بتایا کہ حملہ آور سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر داخل ہونے کی کوشش کے دوران فائرنگ کا مرتکب ہوا۔ ان کے مطابق ایک سیکریٹ سروس اہلکار کو گولی لگی، لیکن بلٹ پروف جیکٹ کی بدولت وہ محفوظ رہا۔ انہوں نے سیکیورٹی اداروں کی فوری اور مؤثر کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروقت اقدام سے ممکنہ بڑا نقصان ٹال دیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے واقعے کو “حیران کن لمحہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اچانک شور اور ٹرے گرنے کی آوازوں نے ماحول کو افراتفری میں بدل دیا۔ انہوں نے بتایا کہ خاتون اول Melania Trump بھی اس صورتحال سے شدید متاثر ہوئیں۔
انہوں نے حملہ آور کو “انتہائی بیمار ذہنیت کا حامل شخص” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر سے نمٹنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ملزم کے پاس متعدد ہتھیار موجود تھے اور اس کا تعلق California سے بتایا جا رہا ہے۔
صدر نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ سیاسی شخصیات، خصوصاً ریپبلکنز، کو نشانہ بنایا گیا ہو، تاہم اس طرح کے واقعات کے باوجود ریاستی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ 30 دنوں میں اس سے بھی بڑی تقریب منعقد کی جائے گی اور معمولات زندگی کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے اس موقع پر سیاسی و سماجی سطح پر تشدد کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اختلافات کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صدر ٹرمپ نے صدارت کے عہدے کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصب پر فائز شخص کو مسلسل سیکیورٹی خدشات کا سامنا رہتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر انہیں پہلے ان خطرات کا مکمل اندازہ ہوتا تو شاید وہ صدارتی انتخاب میں حصہ نہ لیتے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ ان خطرات کے باوجود معمول کی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔
