امریکی سینیٹ نے تاریخی شٹ ڈاؤن ختم کرنے کا بل منظور کر لیا، بل ایوانِ نمائندگان کو ارسال

0

واشنگٹن — امریکی سینیٹ نے پیر کے روز ایک سمجھوتہ بل منظور کر لیا جس کے ذریعے امریکی تاریخ کے سب سے طویل حکومتی شٹ ڈاؤن کو ختم کیا جائے گا۔ یہ بل اب ایوانِ نمائندگان کو منظوری کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

60-40 ووٹوں کے ساتھ منظور ہونے والے بل کی حمایت تقریباً تمام ریپبلکنز اور آٹھ ڈیموکریٹس نے کی۔ اس بل سے وفاقی اداروں کی فنڈنگ بحال ہو جائے گی، جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وفاقی افرادی قوت میں کمی کی مہم کو 30 جنوری تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔

بل کی منظوری کے بعد ملک بھر میں لاکھوں وفاقی ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی ممکن ہو گی جنہیں کئی ہفتوں سے تنخواہیں نہیں مل رہی تھیں۔ شٹ ڈاؤن کے باعث خوراک کے فوائد اور ہوائی ٹریفک کے نظام پر بھی شدید اثرات مرتب ہوئے تھے۔

ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے کہا ہے کہ وہ اس بل کو بدھ کے روز جلد از جلد منظور کرا کر صدر ٹرمپ کے دستخط کے لیے بھیجیں گے۔ صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو “بہت اچھا قدم” قرار دیا ہے۔

یہ سمجھوتہ حکومت کو 30 جنوری تک فنڈنگ جاری رکھنے کی اجازت دیتا ہے، جس کے دوران امریکہ کا وفاقی قرضہ 38 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔

تاہم، بل میں صحت کی سبسڈیوں کی ضمانت شامل نہیں کی گئی، جس پر ڈیموکریٹس نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ ان سبسڈیوں سے 24 ملین امریکی شہری مستفید ہوتے ہیں۔ سینیٹ کے ڈیموکریٹ رہنما ڈک ڈربن نے کہا “ہم چاہتے تھے کہ ہم اس سے بہتر کر پاتے۔ حکومت کا بند ہونا بہتر پالیسی کی طرف لے جانے کا موقع سمجھا گیا، مگر ایسا نہیں ہوا۔”

تازہ رائٹرز/اِپسوس سروے کے مطابق، 50 فیصد امریکیوں نے شٹ ڈاؤن کا ذمہ دار ریپبلکنز کو جبکہ 43 فیصد نے ڈیموکریٹس کو قرار دیا۔

اس پیش رفت کی خبر کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان دیکھا گیا۔

اگرچہ اس معاہدے میں صدر ٹرمپ کو آئندہ اخراجات میں مزید کٹوتیاں کرنے سے روکنے کے لیے کوئی واضح گارڈریلز شامل نہیں، تاہم بل کے تحت فوڈ سبسڈی پروگرام (SNAP) کو آئندہ سال 30 ستمبر تک فنڈنگ کی ضمانت دے دی گئی ہے تاکہ دوبارہ شٹ ڈاؤن کی صورت میں عوامی فوائد متاثر نہ ہوں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.