کیڈٹ کالج وانا کے اساتذہ اور طلبہ کے حوصلے بلند، دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بننے کا عزم
وانا — جنوبی وزیرستان کے کیڈٹ کالج وانا پر حملے کے باوجود اساتذہ اور کیڈٹس کے حوصلے بلند ہیں، جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر وطن سے وفاداری اور عزم کا مظاہرہ کیا۔
ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واقعے کے بعد لمحہ بہ لمحہ آپریشن کی نگرانی کی اور واضح ہدایت دی کہ "قوم کے یہ معمار ہمارا سرمایہ ہیں، ان پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنی چاہیے۔”
10 نومبر کو پانچ افغانی خوارج نے کیڈٹ کالج وانا کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم پاک فوج کے بہادر جوانوں اور کالج انتظامیہ کی بروقت کارروائی سے دہشت گردوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔
آپریشن کے کمانڈر کرنل محمد طاہر کے مطابق دہشت گردوں نے پہلے خودکش دھماکہ کیا اور بعد ازاں کالج کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ تاہم سیکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے انہیں مخصوص بلاک تک محدود کر دیا تاکہ زیرِ تعلیم طلبہ کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
کرنل طاہر کے مطابق، "خوارج نے پہلے طلبہ کو یرغمال بنانے کی کوشش کی لیکن پاک فوج کے جوانوں نے کیڈٹس کے درمیان ڈھال بن کر ان کی جانیں بچائیں۔” رات دس بجے تک جاری رہنے والے بھرپور آپریشن کے بعد تمام حملہ آور جہنم واصل کر دیے گئے۔
ایک زیرِ تعلیم کیڈٹ نے بتایا کہ "جب خودکش دھماکہ ہوا، ہم ڈرل کمپیٹیشن کی تیاری کر رہے تھے۔ ہمیں فوراً احساس ہو گیا کہ یہ حملہ تعلیم کے دشمنوں کا ہے جو ہمیں علم سے دور رکھنا چاہتے ہیں، مگر ہم انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔”
دوسرے کیڈٹ نے بتایا کہ "اساتذہ نے ہمیں تسلی دی کہ پاک فوج پہنچ چکی ہے، سب محفوظ رہیں۔ فورسز نے ہمیں فوری طور پر کالج سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا۔”
حملے کے دوران پاک فوج کے جوانوں نے جانوں کی قربانی دے کر درجنوں طلبہ کی زندگیاں بچائیں۔ کیڈٹس نے عزم ظاہر کیا کہ "تعلیم کے دشمن کچھ بھی کر لیں، ہم اپنی تعلیم جاری رکھیں گے اور ملک و قوم کے لیے پڑھیں گے۔”
بروقت کارروائی سے ایک بڑے دہشت گرد منصوبے کو ناکام بنادیا گیا۔