شمالی غزہ کی سرحد انسانی امداد کے لیے دوبارہ کھول دی گئی
یروشلم – اسرائیل نے شمالی غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل کے لیے زیکیم بارڈر کراسنگ کو دو ماہ بعد دوبارہ کھول دیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب علاقے میں جاری کشیدگی کے باوجود امدادی سرگرمیوں کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق، زیکیم کراسنگ کو اسرائیلی دفاعی فورسز (IDF) کی کارروائی کے دوران 12 ستمبر کو بند کیا گیا تھا۔ اب اس فیصلے کے بعد غزہ کی پٹی میں تین فعال کراسنگ پوائنٹس کام کر رہی ہیں۔
حکومتی سرگرمیوں کے کوآرڈینیٹر (COGAT) کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ “زیکیم کراسنگ کو سیاسی قیادت کی منظوری کے بعد دوبارہ کھولا گیا ہے۔ امدادی سامان اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی نگرانی میں سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد غزہ میں منتقل کیا جائے گا۔”
اس اقدام کو اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے غزہ میں جاری غذائی قلت اور انسانی بحران کے پیشِ نظر ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
زیکیم کراسنگ، جو اسرائیل اور بیت لاہیا کے درمیان واقع ہے، شمالی غزہ کے ان چند اہم راستوں میں شامل ہے جہاں سے خوراک، ادویات اور دیگر امدادی سامان داخل کیا جاتا ہے۔