ایران نے نام نہاد فیکٹ فائنڈنگ مشن کے الزامات کو مسترد کر دیا
تہران — اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ کونسل برائے انسانی حقوق نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے اجلاس کے دوران نام نہاد انٹرنیشنل فیکٹ فائنڈنگ مشن کی سربراہ کے الزامات کو غیر مستند، جانبدار اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے سخت ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔ کونسل نے کہا ہے کہ مشن کی سرگرمیاں اور بیانات انسانی حقوق کے بین الاقوامی میکانزم خصوصاً اقوامِ متحدہ کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
کونسل کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مشن نے جمعرات 30 اکتوبر 2025 کو تیسری کمیٹی کے سامنے پیشی کے دوران منصفانہ، غیرجانبدار اور شفاف طرزِ عمل کی بجائے "بے بنیاد اور دہرائے جانے والے الزامات” پیش کیے، جو اس ادارے کے مینڈیٹ اور اصولوں کے خلاف ہیں۔ بیانیے میں مزید موقف اپنایا گیا کہ اس مشن کی تشکیل پہلے ہی سے مغربی ممالک کے سیاسی مقصد کے لیے کی گئی تھی اور اسے غیر جانبدار تحقیق کا جواز حاصل نہیں۔
کونسل نے زور دیا کہ ایران کے اندرونی اداروں اور عدالتی نظام نے 2022 میں پیش آنے والی بدامنی کے متعدد پہلوؤں کی مکمل تفتیش کی اور ملکی قانونی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا گیا، اس کے باوجود اس مشن نے ان تحقیقات کو نظر انداز کیا اور "الزام تراشی” کو فروغ دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ مشن کے طرزِ کار، رپورٹس اور بیانات ایک منظم فریم ورک کے تحت "پہلے سے طے شدہ نتائج” کو تقویت دینے کی کوششیں ہیں، جو ایران مخالف بیانیے کو عالمی فورمز پر پیش کرتے ہیں۔
کونسل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مشن نے متاثرین کے حقوق کے نام پر علیحدگی پسند، تخریبی یا دہشت گرد عناصر کے تیار کردہ دعووں کو دوبارہ نشر کر کے اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم کی بدنامی کی ہے اور یوں امن و استحکام میں دخل اندازی کا ذریعہ بن گیا ہے۔ بیان میں اس مشن کی سرگرمیوں کو "شرمناک” اور "اقوامِ متحدہ کے سفارتی اصولوں کے برخلاف” قرار دیا گیا۔
آخر میں ایران کی اعلیٰ کونسل برائے انسانی حقوق نے تیسری کمیٹی میں پیش کیے گئے دعووں کی سخت مذمت کی اور کہا کہ مشن کا اس طرح فعال رہنا اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے مؤثر میکانزم کی ساکھ کو مجروح کرے گا۔