آسٹریلوی ریاست وکٹوریہ نے مقامی باشندوں کے ساتھ تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے

0

سڈنی — آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار مقامی باشندوں (فرسٹ نیشنز) کے ساتھ ایک باضابطہ معاہدے پر دستخط کر دیے، جسے ماہرین نے مصالحت کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

یہ معاہدہ 12 دسمبر 2025 سے نافذالعمل ہوگا، جس کے تحت ریاستی حکومت مقامی آبادی سے ماضی کی زیادتیوں پر باضابطہ معافی مانگے گی اور ایک مستقل نمائندہ ادارہ قائم کرے گی جو حکومت کو ان امور پر مشورہ دے گا جو براہِ راست مقامی باشندوں کو متاثر کرتے ہیں۔

  • وکٹورین پریمیئر جیسنٹا ایلن نے میلبرن میں معاہدے پر دستخط کی تقریب میں کہا "آج ہماری ریاست کی کہانی میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔ جب لوگ ان معاملات میں آواز اٹھاتے ہیں جو ان کی زندگی، صحت، تعلیم اور ثقافت کو متاثر کرتے ہیں تو نتائج بہتر ہوتے ہیں۔”

  • یہ معاہدہ مقامی عوام کے لیے فیصلہ سازی میں نمائندگی کو مضبوط بنائے گا، تاہم انہیں ویٹو کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔

  • معاہدے پر عمل درآمد کے لیے قائم ادارے کو فرسٹ پیپلز اسمبلی کا نام دیا گیا ہے۔

آسٹریلیا میں تقریباً 10 لاکھ مقامی شہری آباد ہیں، جو اب بھی سماجی و معاشی لحاظ سے قومی اوسط سے کم تر ہیں۔
دیگر نوآبادیاتی ممالک جیسے امریکا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ کے برعکس، آسٹریلیا نے ماضی میں اپنے پہلے باشندوں کے ساتھ کبھی کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں کیا۔

2023 میں ایک قومی ریفرنڈم میں مقامی نمائندہ باڈی کو آئین میں شامل کرنے کی تجویز مسترد کر دی گئی تھی، جس سے مفاہمت کی کوششوں کو دھچکا لگا۔

یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے قانون کے پروفیسر ہیری ہوبز کے مطابق "یہ معاہدہ فرسٹ نیشنز کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرنے میں ایک سنگِ میل ہے۔ یہ قدم پورے ملک میں مستقبل کے معاہدوں کے لیے مثال بنے گا۔”

وکٹوریہ میں اس معاہدے کے لیے بات چیت 2016 میں شروع ہوئی تھی، اور گزشتہ ماہ ریاستی پارلیمنٹ نے اس سے متعلق بل منظور کیا تھا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.