برازیل کی سپریم کورٹ کا سابق صدر بولسونارو کی جیل منتقلی کے فیصلے کو برقرار رکھنے کا حکم
برازیلیا میں برازیل کی سپریم کورٹ نے سابق صدر جائر بولسونارو کی جیل منتقلی کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے اُن کی جانب سے دائر درخواست مسترد کر دی ہے۔ بولسونارو کو ہفتے کے روز اس الزام پر حراست میں لیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی نگرانی کیلئے لگائے گئے الیکٹرانک اینکل مانیٹر کو سولڈرنگ آئرن سے نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
اے ایف پی کے مطابق بولسونارو کو 27 سال قید کی سزا کے خلاف اپیل کے دوران فرار کے خدشے کے پیش نظر گھر میں نظر بندی میں رکھا گیا تھا، جہاں الیکٹرانک مانیٹر کو خراب کرنے کی کوشش کے بعد انہیں حراست میں لیا گیا۔
سپریم کورٹ کے جج الیگزینڈر ڈی مورائس نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بولسونارو نے “جان بوجھ کر اور شعوری طور پر” مانیٹرنگ ڈیوائس کی خلاف ورزی کی، جبکہ عدالت کے تین دیگر ججوں نے بھی اس فیصلے کی حمایت کی۔ جج نے مزید کہا کہ ان کی رہائش گاہ کے قریب امریکی سفارتخانے کی موجودگی اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اُن کے قریبی تعلقات کے باعث یہ شبہ بھی موجود تھا کہ وہ سیاسی پناہ کی کوشش میں ملک سے فرار ہو سکتے تھے۔
اتوار کو سماعت میں بولسونارو نے دعویٰ کیا کہ وہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات ادویات کے باعث ذہنی بے چینی کا شکار تھے اور فرار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ تاہم ہفتے کو جاری عدالتی ویڈیو میں وہ یہ اعتراف کرتے نظر آئے کہ انہوں نے “صرف تجسس” کے تحت مانیٹر کو گرم کیا۔ ویڈیو میں آلہ واضح طور پر جلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
بولسونارو کی قانونی ٹیم نے عدالت سے انسانی بنیادوں پر نظرثانی کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادویات کے اثرات کی وجہ سے وہ ذہنی اضطراب کا شکار ہیں، اس لیے انہیں دوبارہ گھر میں نظر بندی کی اجازت دی جائے۔ تاہم سپریم کورٹ پہلے ہی ان کی ایک اپیل مسترد کر چکی ہے۔