حماس کا مسلح ونگ ختم کرنے اور مکمل سیاسی تنظیم میں تبدیل ہونے پر غور

حماس کا مسلح ونگ ختم کرنے اور مکمل سیاسی تنظیم میں تبدیل ہونے پر غور

سعودی اخبار الشرق الاوسط کی رپورٹ کے مطابق حماس کی اندرونی قیادت اس بات پر بحث کر رہی ہے کہ تنظیم کا مستقبل کیا ہونا چاہیے، اور کیا وہ اپنے مسلح ونگ کو تحلیل کرکے مکمل طور پر سیاسی جماعت کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حماس تخفیفِ اسلحہ کے امکانات پر بھی بات چیت کے لیے تیار ہے۔

رپورٹ کے مطابق زیرِ غور تجویز میں حماس کو اپنے عسکری ڈھانچے کو ختم کرکے خود کو ایسی سیاسی، معاشی اور سماجی جماعت کے طور پر استوار کرنے کی سفارش کی گئی ہے جو فلسطینی عوامی زندگی میں باضابطہ کردار ادا کر سکے۔ ذرائع کے مطابق اس تجویز میں حماس کے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کا رکن بننے کا معاملہ بھی شامل ہے، جس کی قیادت اس وقت فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کر رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایل او میں شمولیت کی صورت میں حماس دیگر فلسطینی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایک بااثر سیاسی قوت بن سکتی ہے، جس سے فلسطینی علاقوں میں سیاسی عمل کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق دو سالہ جنگ اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے بعد حماس کو عوامی حمایت میں کمی کا سامنا ہے، اور اسی پس منظر میں جماعت کے اندر سیاسی راستہ اختیار کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق حماس کے رہنما مصر، قطر اور ترکی کے ساتھ غیر مسلح ہونے کے حوالے سے ابتدائی بات چیت کر رہے ہیں، جبکہ اس معاملے پر بالواسطہ طور پر امریکہ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ تاہم حماس کی قیادت کا مؤقف ہے کہ اگر ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا تو یہ صرف "فلسطینی قومی اتفاقِ رائے” کے تحت ہوگا، اور اس عمل میں اسرائیل یا اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اقوام متحدہ نے رواں ماہ ایک امریکی حمایت یافتہ قرارداد کے تحت غزہ میں بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) کی تعیناتی کی منظوری دی ہے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ 20 نکاتی منصوبے کے مطابق غزہ کی غیر فوجی کارروائیوں میں حصہ مل سکتا ہے۔ لیکن حماس کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ تنظیم ISF کو طاقت کے استعمال کے ذریعے غیر مسلح کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور ایسے کسی اقدام سے "انتشار اور خطرناک صورتحال” پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق حماس کے مسلح ونگ کو تحلیل کرکے تنظیم کو سیاسی کردار تک محدود کرنے کی تجویز پہلے ہی پولٹ بیورو، شوریٰ کونسل اور جماعت کے دیگر متعلقہ اداروں کو پیش کی جا چکی ہے، جہاں اس پر غور جاری ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے