پرتھ ٹیسٹ دو دن میں اختتام پذیر، ICC نے پرتھ کی پچ کواعلیٰ ترین درجہ کی قراردےدیا
پرتھ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا پہلا ایشیز ٹیسٹ تاریخ کے تیز ترین مکمل ہونے والے میچز میں شامل ہو گیا، جو صرف دو دن میں اختتام پذیر ہوا۔ آسٹریلیا نے انگلینڈ کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر پانچ میچوں کی سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کرلی۔
میچ کے انتہائی تیزی سے ختم ہونے کے باوجود انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پرتھ کی پچ کو اپنے اعلیٰ ترین درجہ "بہت بہترین” کا درجہ دیا ہے۔ آئی سی سی کے مطابق ایسی پچ میں اچھا باؤنس، مناسب کیری، محدود سیم موومنٹ اور بیٹرز اور بولرز کے درمیان متوازن مقابلہ شامل ہوتا ہے۔
میچ کے پہلے ہی دن 19 وکٹیں گرنے سے شائقین حیران رہ گئے۔ انگلینڈ کی ٹیم 172 رنز پر آؤٹ ہوئی جبکہ آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے اپنے کیریئر کی بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے 58 رنز کے عوض 7 وکٹیں حاصل کیں۔ آسٹریلوی بیٹنگ بھی مشکلات کا شکار رہی اور پہلے دن کے اختتام تک 9 وکٹوں کے نقصان پر 121 رنز بنا سکی۔
دوسرے دن انگلینڈ دوبارہ بے بس نظر آیا اور پوری ٹیم 164 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ 164 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ٹریوس ہیڈ نے شاندار 123 رنز کی اننگز کھیل کر آسٹریلیا کو صرف دو دن میں فتح دلادی۔
دو دن میں مجموعی طور پر 13 وکٹیں گریں اور 380 رنز اسکور بورڈ پر آئے۔ میچ صرف 847 گیندوں میں مکمل ہوا، جو گزشتہ 137 برسوں میں سب سے کم گیندوں میں مکمل ہونے والا ایشیز ٹیسٹ ہے، جب چار بال فی اوور کا قانون نافذ تھا۔