اقوام متحدہ میں انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے قرارداد منظور
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی سمگلنگ کے خاتمے کیلئے اہم قرارداد 2025 پولیٹیکل ڈیکلریشن برائے نفاذِ گلوبل پلان آف ایکشن ٹو کمبیٹ ٹریفیکنگ اِن پرسنز منظور کرلی۔ قرارداد میں انسانی سمگلنگ کو ایک سنگین جرم اور انسانی وقار پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی گئی۔
قرارداد کے مطابق عالمی برادری انسانی سمگلنگ کی بنیادی وجوہات کے تدارک کیلئے کوششیں تیز کرے گی، خصوصاً خواتین اور بچوں کے تحفظ پر خصوصی توجہ دینے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ اس موقع پر رکن ممالک نے اس جرم سے نمٹنے کیلئے مربوط حکمتِ عملی، عالمی تعاون اور متاثرین کی حفاظت یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی سمگلنگ دنیا بھر میں معاشروں اور افراد کو متاثر کر رہی ہے، جب کہ مسلح تنازعات، ماحولیاتی آفات اور معاشی عدم مساوات اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
انہوں نے اس تشویشناک صورتحال کی طرف بھی توجہ دلائی کہ دنیا بھر میں بچوں کی بڑی تعداد انسانی سمگلنگ کا شکار بن رہی ہے۔ پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ پاکستان بیک وقت روانگی، گزرگاہ اور میزبان ملک کی حیثیت رکھتا ہے، اسی لیے انسانی سمگلنگ سے نمٹنا ہمارے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
عثمان جدون نے مزید کہا کہ اس مسئلے کی بنیادی وجوہات کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں، جن میں معاشی ناہمواری کم کرنا، قانونی اور محفوظ ہجرت کے راستے فراہم کرنا اور تنازعات کے حل کیلئے مؤثر کوششیں شامل ہیں۔