جکارتہ میں ریبیز پھیلانے والے جانوروں کے گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی
جکارتہ: انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں کتے، بلی اور دیگر ریبیز پھیلانے والے جانوروں کے گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں اس روایت کے خلاف مہم گزشتہ چند برسوں کے دوران تیزی سے مضبوط ہوئی ہے، تاہم کچھ مقامی برادریوں میں اس کا استعمال اب بھی موجود ہے۔
اگرچہ انڈونیشیا کی مسلم اکثریت کتے کا گوشت استعمال نہیں کرتی، لیکن بعض کمیونٹیز میں اسے روایت یا بعض معاملات میں ڈینگی کے علاج کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جکارتہ کے گورنر کے مطابق پابندی ریبیز منتقل کرنے والے تمام جانوروں، جن میں چمگادڑ، بندر اور سیوٹ شامل ہیں، کی تجارتی فروخت پر لاگو ہوگی۔
جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ڈاگ میٹ فری انڈونیشیا نے اس اقدام کو جکارتہ کی جانب سے ’جانوروں کی فلاح کے لیے حقیقی کوشش‘ قرار دیا ہے۔ تنظیم کے 2021 کے سروے کے مطابق 93 فیصد انڈونیشین شہری کتے کے گوشت کے کاروبار کے خلاف ہیں، تاہم 2022 میں تقریباً 9500 آوارہ کتے—زیادہ تر مغربی جاوا سے—جکارتہ لائے گئے۔
جکارتہ 2004 سے ریبیز فری صوبہ ہے، اور شہر کی فوڈ ریزیلینسی اینڈ ایگری کلچر ایجنسی کے سربراہ حسبودونگ سِدابالوک کے مطابق نئی پابندی کا مقصد اس حیثیت کو برقرار رکھنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ مارکیٹوں اور ریستورانوں میں کھلے عام کتے کا گوشت اب شاذ و نادر ہی ملتا ہے، لیکن اب بھی 19 ریستوران اور کم از کم دو ذبح خانے سرگرم ہیں۔
حکام کے مطابق پابندی چھ ماہ کی آگاہی مہم کے بعد نافذ کی جائے گی، جس کے بعد خلاف ورزی کی صورت میں وارننگ، جرمانے یا کاروباری لائسنس کی منسوخی جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔