فرانس کا نیا قومی فوجی سروس پلان، 18 اور 19 سال کےنوجوان قومی فوجی سروس انجام دیں گے۔

0

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جمعرات کے روز نئے قومی فوجی سروس پروگرام کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد یورپ میں روس سے لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کے مقابلے کے لیے ملک کی دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانا ہے۔ اعلان ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق فرانس کے وارسیس فوجی اڈے پر کیا گیا۔

نئے پروگرام کے تحت 18 اور 19 سال کی عمر کے رضاکار نوجوان آئندہ سال سے 10 ماہ کی قومی فوجی سروس انجام دیں گے۔ صدر میکرون نے وضاحت کی کہ نوجوان صرف فرانس کی سرزمین اور اس کے سمندر پار علاقوں میں خدمات انجام دیں گے اور انہیں بیرون ملک کسی فوجی کارروائی میں نہیں بھیجا جائے گا۔

میکرون کے مطابق یہ منصوبہ بتدریج نافذ ہوگا اور اس کا مقصد نوجوانوں کے لیے رضاکارانہ فوجی خدمت کا نیا راستہ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 1996 میں ختم کی جانے والی لازمی فوجی بھرتی کی بحالی پر غور نہیں کیا جا رہا۔

صدر نے کہا کہ یوکرین میں روس کی جنگ نے یورپ کے لیے "بڑے خطرے” کی گھنٹی بجا دی ہے، اور روس کسی بھی کمزوری کو مزید پیش قدمی کا موقع سمجھتا ہے۔ اسی لیے فرانس اپنے دفاعی ڈھانچے کو وسعت دے رہا ہے۔ میکرون نے اگلے دو سال میں 6.5 بلین یورو اضافی فوجی اخراجات اور 2027 تک سالانہ دفاعی بجٹ 64 بلین یورو تک بڑھانے کا اعلان کیا—جو ان کے اقتدار کے آغاز کے مقابلے میں دوگنا ہوگا۔

فرانس کی موجودہ فوج میں تقریباً 200,000 فعال اہلکار اور 40,000 سے زائد ریزرو شامل ہیں، جبکہ ہدف 2030 تک ریزروسٹ کی تعداد کو 100,000 تک بڑھانا ہے۔ فرانس کے نئے آرمی چیف جنرل فابین مینڈن نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ روس 2030 تک نیٹو ممالک سے ممکنہ تصادم کی تیاری کر رہا ہے، جس پر فرانسیسی سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

میکرون نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ نوجوانوں کو یوکرین بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کی ایسی "الجھن” کو فوری طور پر دور کرنا ضروری ہے۔

فرانس کے ساتھ دیگر یورپی ممالک بھی اپنی فوجی صلاحیتیں بڑھانے میں مصروف ہیں۔ جرمنی نئی رضاکارانہ فوجی سروس کے ذریعے بھرتیوں میں اضافہ چاہتا ہے، بیلجیئم 17 سالہ نوجوانوں کو فوجی سروس کے لیے راغب کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ پولینڈ نے نیا رضاکارانہ فوجی تربیتی پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت 2027 سے ہر سال 100,000 افراد کو تربیت دی جائے گی۔ یورپی یونین کے دس ممالک اس وقت لازمی فوجی خدمت نافذ کیے ہوئے ہیں، جبکہ ناروے بھی مردوں اور خواتین دونوں کے لیے لازمی سروس رکھتا ہے۔

نئے فوجی سروس پلان کا مقصد فرانس کو مستقبل کے ممکنہ سیکیورٹی چیلنجوں کے لیے زیادہ مضبوط اور تیار بنانا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.