عالمی سائنسدانوں نے چاند و مریخ کے لیے خلائی زرعی فارمز کا روڈ میپ جاری کر دیا
میلبورن — عالمی سائنس دانوں نے چاند اور مریخ پر طویل مدتی انسانی قیام کے لیے پودوں پر مبنی خود کفیل زرعی نظام تیار کرنے کا جامع روڈ میپ جاری کیا ہے، جس سے زمین پر بھی پائیدار غذائی پیداوار میں مدد مل سکتی ہے۔
میلبورن یونیورسٹی کے مطابق اس منصوبے میں 40 سے زائد سائنس دان اور مختلف خلائی ایجنسیاں شامل ہیں، جنہوں نے طویل خلائی مہمات کے لیے بایو ری جنریٹو لائف سپورٹ سسٹم تیار کرنے کی سائنسی پیش رفت کی نشاندہی کی ہے۔ یہ نظام تازہ غذا اگانے، پانی اور ہوا کی ری سائیکلنگ، اور خلا بازوں کی صحت و فلاح و بہبود کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تحقیق کے شریک مصنف سگفریڈو فوینٹس نے کہا کہ چاند کے لیے زرعی نظام ڈیزائن کرنے سے زمین پر زراعت کے نئے طریقے بھی دریافت ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس روڈ میپ میں سنتھیٹک بایولوجی، پریسیژن سینسنگ اور کنٹرولڈ انوائرنمنٹ ایگریکلچر جیسی جدید تکنیکوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔
محققین نے "بایوری جنریٹو لائف سپورٹ سسٹم ریڈی نیس لیول” کا نیا فریم ورک بھی تجویز کیا ہے، جو یہ جانچنے میں مدد دے گا کہ پودے خلائی ماحول میں غذائی اجزا کی ری سائیکلنگ، پانی کی صفائی، آکسیجن کی پیداوار اور غذائیت فراہم کرنے کی کس حد تک صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ تحقیق ناسا کے 2027 کے آرٹیمس تھری مشن سے قبل ترجیحات طے کرنے میں مدد دے گی، جس کے تحت انسان دوبارہ چاند پر جائیں گے اور وہاں پودوں کی نمو کا تجربہ کیا جائے گا۔