Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا

Subscribe to Updates

Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.

What's Hot

سلطان آف جوہر کپ کے فائنل میں پاکستان کو شکست، ملائیشیا چیمپئن بن گیا

اکتوبر 24, 2026

سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان ٹیم کا اعلان

اکتوبر 24, 2026

بلائنڈ کرکٹ ایشیا کپ: پاکستان ٹیم کا اعلان، نثار علی کپتان مقرر

اکتوبر 24, 2026
Facebook X (Twitter) Instagram
ہفتہ, اکتوبر 24
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Home»دنیا»بھارتی ریاست آسام میں ایک سے زائد شادی پر پابندی کا متنازع قانون منظور
دنیا

بھارتی ریاست آسام میں ایک سے زائد شادی پر پابندی کا متنازع قانون منظور

EditorBy Editorنومبر 28, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
بھارتی ریاست آسام میں ایک سے زائد شادی پر پابندی کا متنازع قانون منظور
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

بھارتی ریاست آسام کی اسمبلی نے ایک ایسا قانون منظور کر لیا ہے جسے مختلف حلقوں میں مسلم مخالف اور مذہبی آزادی پر قدغن قرار دیا جا رہا ہے۔ نئے قانون کے تحت ایک سے زائد شادی کو جرم قرار دے دیا گیا ہے۔

قانون کے مطابق پہلی شادی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرنے پر سات سال تک قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، جبکہ پہلی بیوی کی اجازت نہ لینے کی صورت میں یہ سزا مزید بڑھ سکتی ہے۔ پہلی شادی کو چھپا کر دوسری شادی کرنے والے افراد کو دس سال تک قید کا سامنا ہو سکتا ہے، اور جرم دہرانے کی صورت میں سزا دگنی ہو جائے گی۔

قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ دوسری شادی کرنے یا کروانے والے افراد سرکاری ملازمت یا مقامی حکومت کے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ اسی طرح اس عمل میں معاونت کرنے والے، مثلاً گاؤں کے سرپنچ، مذہبی رہنما، والدین یا سرپرست کو بھی دو سال تک قید اور ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔

بل میں غیر قانونی شادی کا نشانہ بننے والی خواتین کے لیے معاوضے اور قانونی تحفظ کی شق بھی شامل ہے۔

وزیراعلیٰ آسام نے قانون کی منظوری کے بعد کہا کہ یہ اقدام کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ معاشرے میں ازدواجی ذمہ داریوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق ترکیہ سمیت کئی ممالک میں بھی ایک سے زائد شادی پر پابندی عائد ہے۔

تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون ذاتی آزادی اور مذہبی روایات کی خلاف ورزی ہے، خصوصاً ان علاقوں اور کمیونٹیز میں جہاں ایک سے زائد شادی کی اجازت مذہبی یا روایتی طور پر موجود ہے۔ جبکہ کچھ مخصوص قبائل، نسلی گروہوں اور خود مختار علاقوں کو اس قانون سے جزوی استثنیٰ بھی دیا گیا ہے۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    برطانیہ میں سمر ٹائم ختم، آج رات گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے ہوں گی

    اکتوبر 24, 2026

    فرانس میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے، 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات

    اکتوبر 24, 2026

    کشمیری حقوق کے لیے متحد ہوں، پاکستان عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اٹھا رہا ہے: فاروق عبداللہ

    اکتوبر 24, 2026

    Comments are closed.

    Latest Posts

    مکہ دفاعی معاہدہ: عالمِ اسلام کے نئے دفاعی دور کا آغاز، اسرائیل اور بھارت میں بھونچال

    اگست 7, 2026

    قوم کی اصل دولت

    اپریل 8, 2026

    انفارمیشن وار: خاموش محاذ، خطرناک نتائج

    فروری 24, 2026

    قوم پرستی یا قوم فروشی؟ ایک سنجیدہ سوال

    فروری 17, 2026

    عوامی ایکشن کمیٹی: ایک عوامی تحریک یا نظریاتی یرغمالی؟

    فروری 11, 2026

    رائزنگ اسٹار ایشیا کپ میں پاکستان شاہینز نے بھارت کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

    نومبر 16, 2025
    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.