Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا

Subscribe to Updates

Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.

What's Hot

مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو تین روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے

اکتوبر 20, 2026

پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

اکتوبر 20, 2026

طالبہ لائبہ اعجاز سے فراڈ کرنے والا زیر حراست ملزم پولیس مقابلے کے دوران ہلاک

اکتوبر 20, 2026
Facebook X (Twitter) Instagram
منگل, اکتوبر 20
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Home»کالمز»انفارمیشن وار: خاموش محاذ، خطرناک نتائج
کالمز

انفارمیشن وار: خاموش محاذ، خطرناک نتائج

EditorBy Editorفروری 24, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں ہمارے ہزاروں شہری اور سیکورٹی اہلکار قربان ہوئے، معیشت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور سماجی تانے بانے پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ عسکری میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں، دہشت گرد نیٹ ورکس توڑے گئے اور کئی علاقوں میں ریاستی رٹ بحال ہوئی۔ مگر اسی دوران ایک اور محاذ خاموشی سے کھل چکا تھا، جسے ہم نے سنجیدگی سے لینے میں تاخیر کی۔ یہ محاذ بندوق کا نہیں، بیانیے کا ہے۔ یہ انفارمیشن وار ہے۔

آج کی دنیا میں جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی۔ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، بلاگز، وی لاگز اور آن لائن مہمات وہ ہتھیار بن چکے ہیں جن کے ذریعے ریاستوں کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر اس کی مثالیں موجود ہیں۔ مختلف ممالک میں انتخابات، ریفرنڈمز اور داخلی سیاسی معاملات پر بیرونی مداخلت کے شواہد سامنے آ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین سمیت کئی عالمی ادارے باقاعدہ رپورٹس میں اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ ڈس انفارمیشن جدید جنگ کا اہم ہتھیار ہے۔ جب بڑی طاقتیں اس خطرے کو تسلیم کر چکی ہیں تو پاکستان جیسے حساس خطے میں واقع ملک کے لیے اس خطرے کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں۔

پاکستان میں یہ جنگ کئی سطحوں پر لڑی جا رہی ہے۔ پہلی سطح ریاستی اداروں پر مسلسل عدم اعتماد پیدا کرنا ہے۔ کسی بھی واقعے کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرنا، آدھی معلومات کے ساتھ مکمل فیصلہ صادر کرنا، اور ہر معاملے میں ریاست کو واحد مجرم قرار دینا ایک منظم حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے لیے جذباتی زبان، منتخب ویڈیوز اور تراشیدہ بیانات استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ عوامی ردعمل فوری اور شدید ہو۔

دوسری سطح علاقائی حساسیتوں کو ہوا دینا ہے۔ آزادکشمیر، گلگت بلتستان، بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے خطوں میں تاریخی، سیاسی اور معاشی نوعیت کے مسائل موجود رہے ہیں۔ ان مسائل کا حل سیاسی مکالمے اور آئینی اصلاحات سے نکلتا ہے، مگر انفارمیشن وار میں انہیں اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ ریاست بذات خود مسئلہ دکھائی دے۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی مہمات، بیرون ملک بیٹھے چند عناصر کی تقاریر اور مخصوص ہیش ٹیگز اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ گویا ان خطوں اور مرکز کے درمیان ناقابل عبور خلیج موجود ہے۔

بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی میڈیا حکمت عملی اس کی ایک مثال ہے، جہاں ہر سیکورٹی آپریشن کو انسانی حقوق کی مکمل پامالی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ شدت پسند حملوں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کو یا تو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد ریاستی اقدامات کو یک طرفہ انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، مگر دہشت گرد نیٹ ورکس کے مقاصد اور بیرونی روابط پر کم بات ہوتی ہے۔

تیسری سطح سیاسی بیانیے کی ہے۔ ملک کی ایک معروف سیاسی جماعت کے بعض رہنماؤں اور کارکنان کی جانب سے اختیار کیا گیا لب و لہجہ اس بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر جب سیاسی تنقید اس حد تک چلی جائے کہ ریاستی ڈھانچے، عدالتی نظام یا سیکورٹی اداروں کی مکمل نفی شروع ہو جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ محض سیاست ہے یا کسی وسیع تر بیانیے کا حصہ؟ سیاسی اختلاف اور ریاست دشمن پروپیگنڈا کے درمیان لکیر واضح ہونی چاہیے، ورنہ دشمن عناصر کو وہ خلا مل جاتا ہے جس کی انہیں تلاش ہوتی ہے۔

اس انفارمیشن وار کا سب سے خطرناک پہلو دہشت گردی کی بالواسطہ سہولت کاری ہے۔ جب ریاستی بیانیہ مسلسل کمزور کیا جائے، سیکورٹی اقدامات کو ظالمانہ قرار دیا جائے اور شدت پسند عناصر کو “ردعمل” کے طور پر پیش کیا جائے تو عام شہری کے ذہن میں ابہام پیدا ہوتا ہے۔ یہی ابہام شدت پسندوں کے لیے نرم گوشہ پیدا کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر شورش پہلے ذہنوں میں جنم لیتی ہے، میدان میں بعد میں اترتی ہے۔

یہ کہنا غلط ہوگا کہ ہر تنقید انفارمیشن وار کا حصہ ہے۔ نہیں، صحت مند معاشروں میں سخت سے سخت سوال بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ مگر فرق نیت، تسلسل اور تناظر سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر ہر بحران میں ایک ہی زاویہ اختیار کیا جائے، ہر کامیابی کو مشکوک بنایا جائے اور ہر ناکامی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے تو یہ محض اتفاق نہیں رہتا۔

اس صورتحال کا حل سنسرشپ نہیں بلکہ مؤثر بیانیہ، شفافیت اور عوامی آگاہی ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ بروقت معلومات فراہم کرے، غلط خبروں کی فوری تردید کرے اور نوجوانوں کو ڈیجیٹل لٹریسی کی تعلیم دے تاکہ وہ سچ اور پروپیگنڈا میں فرق کر سکیں۔ میڈیا ہاؤسز کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی کہ ریٹنگ اور وائرل ہونے کی دوڑ میں غیر مصدقہ مواد کو جگہ نہ دیں۔

آج کی جنگ میں سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ذہنوں کی حفاظت بھی لازم ہے۔ اگر ہم نے اس خاموش محاذ کو سنجیدگی سے نہ لیا تو عسکری کامیابیاں بھی پائیدار ثابت نہیں ہوں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اختلاف اور انتشار میں فرق کیا جائے، تنقید اور تخریب کے بیچ حد فاصل کو سمجھا جائے، اور قومی بیانیے کو دلیل، شفافیت اور اعتماد کی بنیاد پر مضبوط کیا جائے۔

یہ جنگ دکھائی نہیں دیتی، مگر اس کے اثرات نسلوں تک جا سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے جنگ تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    مکہ دفاعی معاہدہ: عالمِ اسلام کے نئے دفاعی دور کا آغاز، اسرائیل اور بھارت میں بھونچال

    اگست 7, 2026

    قوم پرستی یا قوم فروشی؟ ایک سنجیدہ سوال

    فروری 17, 2026

    عوامی ایکشن کمیٹی: ایک عوامی تحریک یا نظریاتی یرغمالی؟

    فروری 11, 2026

    Comments are closed.

    Latest Posts

    مکہ دفاعی معاہدہ: عالمِ اسلام کے نئے دفاعی دور کا آغاز، اسرائیل اور بھارت میں بھونچال

    اگست 7, 2026

    قوم کی اصل دولت

    اپریل 8, 2026

    انفارمیشن وار: خاموش محاذ، خطرناک نتائج

    فروری 24, 2026

    قوم پرستی یا قوم فروشی؟ ایک سنجیدہ سوال

    فروری 17, 2026

    عوامی ایکشن کمیٹی: ایک عوامی تحریک یا نظریاتی یرغمالی؟

    فروری 11, 2026

    رائزنگ اسٹار ایشیا کپ میں پاکستان شاہینز نے بھارت کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

    نومبر 16, 2025
    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.