ایرانی آرمی چیف کا انکشاف: محسن فخر زادہ نے جوہری پروگرام کے فوجی الزامات کو مسترد کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا

0

تہران— ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے انکشاف کیا ہے کہ اعلیٰ جوہری سائنسدان محسن فخر زادہ، جنہیں 2020 میں تہران کے قریب ایک حملے میں قتل کیا گیا تھا، نے ایران کے جوہری پروگرام پر فوجی پہلوؤں کے الزامات کو غلط ثابت کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔

انقلابی دستاویزی مرکز سے گفتگو میں جنرل حاتمی نے کہا کہ فخر زادہ کی کوششوں نے بین الاقوامی سطح پر ایران کے مؤقف کو مضبوط کیا۔"ان کا کردار کامیاب رہا،” انہوں نے کہا۔

فخر زادہ— موساد کا برسوں سے ہدف

محسن فخر زادہ طویل عرصے سے اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کی ٹارگٹ لسٹ میں شامل تھے۔ اسرائیلی حکام انہیں ایران کے مبینہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی مرکزی شخصیت قرار دیتے رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی اپریل 2018 کی اپنی معروف پریس کانفرنس میں فخر زادہ کا نام نمایاں طور پر لیا تھا، جس کے دو برس بعد سائنسدان کو قتل کر دیا گیا۔

جوہری مذاکرات میں اہم مشاورت

میجر جنرل حاتمی کے مطابق فخر زادہ جوہری مذاکرات اور بین الاقوامی معاہدوں میں ایران کی ذمہ داریوں کے تجزیے کے لیے خصوصی کمیٹی کے بانی تھے۔
انہوں نے بتایا کہ فخر زادہ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ "امریکا اپنے مفادات کے مطابق پوزیشن بدلتا ہے”، اسی لیے ان کا ماننا تھا کہ ٹھوس فیصلہ سازی ہی ملک کے طویل المدتی قومی مفادات کی ضامن ہو سکتی ہے۔

جوہری پروگرام کے فوجی الزامات مسترد کرنے کا کردار

ایران پر جب اپنے جوہری پروگرام میں "فوجی جہت” رکھنے کا الزام عائد کیا گیا، تو جنرل حاتمی کے مطابق فخر زادہ نے قانونی اور تکنیکی شواہد پیش کرکے ثابت کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن ہے۔
انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے (JCPOA) کے بعد یہ الزامات باضابطہ طور پر ختم کر دیے گئے، تاہم اسرائیل مسلسل یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ عالمی برادری کی تشخیص غلط تھی۔

ایران اور آئی اے ای اے کا اختلاف برقرار

میجر جنرل حاتمی نے اعتراف کیا کہ جوہری پروگرام کے تکنیکی معاملات پر ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے درمیان بعض نکات پر تاحال اتفاق نہیں ہو سکا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.