ازبکستان نے چار سال بعد افغان سرحدی گزرگاہ کھول دی

0

تاشقند: ازبکستان نے تقریباً چار سال بعد افغانستان کے ساتھ واحد زمینی سرحدی گزرگاہ دوبارہ کھول دی ہے، جو طالبان کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد عام مسافروں کے لیے بند تھی۔

ازبک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق ترمذ–ہیراتان پل پر قائم سرحدی کراسنگ اب مکمل طور پر فعال ہے اور دونوں ممالک کے شہری محفوظ طریقے سے آمدورفت کر سکتے ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ویزا نظام برقرار رہے گا، تاہم سرحد کی بندش کے باعث مسافروں کو مزار شریف پہنچنے کے لیے تاجکستان کا طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا تھا، جو ازبک سرحد سے صرف 75 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

سرحد کھلنے سے تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں سہولت پیدا ہوگی اور ازبکستان کی افغانستان کے ساتھ برآمدات میں اضافے کی توقع ہے۔ اگرچہ اگست 2021 سے عام شہریوں کی آمدورفت محدود تھی، لیکن تجارتی سامان کی نقل و حرکت جاری رہی، جبکہ افغان شہری بغیر ویزا کے ایریٹم فری ٹریڈ زون تک رسائی حاصل کر سکتے تھے۔

ازبک چیمبر کے مطابق سرحد 23 نومبر سے دوبارہ کھول دی گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحد دریائے آمو دریا کے کنارے واقع ہے اور واحد گزرگاہ دوستی کے پل پر قائم ہے، جہاں سے 1989 میں سوویت افواج نے افغانستان سے انخلا کیا تھا۔

خطے کے ممالک افغانستان کے راستے سمندری بندرگاہوں تک رسائی کے لیے بڑے تجارتی اور ریلوے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جو طالبان حکومت کے معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.