بحرالکاہل میں امریکی سٹرائیک: پینٹاگون نے ایک اور کشتی تباہ کردی، چار افراد ہلاک

0

واشنگٹن — پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج نے مشرقی بحرالکاہل میں ایک کشتی پر حملہ کرتے ہوئے چار افراد کو ہلاک کردیا، جو مبینہ طور پر منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے وابستہ تھے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ حملوں کے بعد اس نوعیت کی کارروائیوں کے قانونی جواز پر امریکی سیاسی حلقوں میں سخت بحث جاری ہے۔

امریکی سدرن کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک تیز رفتار کشتی سمندر میں سفر کررہی ہوتی ہے کہ اچانک ایک دھماکے سے تباہ ہوجاتی ہے اور لمحوں میں آگ کے شعلے بلند ہونے لگتے ہیں۔ حکام کے مطابق اس جہاز کو ’’جوائنٹ ٹاسک فورس سدرن اسپیئر‘‘ نے سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کی ہدایت پر نشانہ بنایا۔

سدرن کمانڈ کے بیان میں کہا گیا کہ انٹیلیجنس ذرائع نے ■ کشتی کو منشیات سے لدی ہوئی اور ■ ایک نامزد دہشت گرد تنظیم کے ساتھ منسلک قرار دیا تھا۔ بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے چاروں افراد ’’نارکو ٹیررسٹس‘‘ تھے۔

تقریباً تین ہفتوں میں یہ پہلی بڑی کارروائی ہے۔ ستمبر کی کارروائی کے بعد امریکی قانون سازوں نے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، خصوصاً اس واقعے میں جب دو افراد حملے کے بعد ملبے سے چمٹے زندہ پائے گئے، تاہم بعد میں ہونے والی فالو اپ کارروائی میں وہ بھی مارے گئے۔

ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس جِم ہیمز نے اسے امریکی فوجی حکمتِ عملی کے سیاہ صفحات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا "فٹیج میں دو افراد واضح طور پر زندہ رہنے کیلئے ملبے سے چمٹے ہوئے دکھائی دے رہے تھے — یہ منظر میرے کیریئر کا سب سے زیادہ لرزا دینے والا واقعہ تھا۔”

اس کے برعکس ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن نے دعویٰ کیا کہ ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں افراد الٹی کشتی کو سیدھا کرکے دوبارہ فرار کی کوشش میں تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممکن ہے قریبی سمندری راستوں سے دیگر اسمگلر انہیں بچانے کیلئے پہنچ جاتے۔

پینٹاگون کے سابق قانونی مشیر اور معروف ماہرِ قانون ریان گڈمین نے سینیٹر کاٹن کے مؤقف کو ’’غیر منطقی توجیہہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی سٹرائیکس کو مسلح تنازع قرار دے کر جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔
ان کے مطابق ’’اگر اسے جنگی کارروائی بھی مان لیا جائے، تب بھی تباہ ہونے والی دونوں کشتیوں پر موجود افراد کسی جنگی ایکٹیویٹی میں مصروف نہیں تھے۔‘‘

سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ پر دباؤ اس وقت بڑھا جب واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا کہ مبینہ طور پر انہوں نے فوج کو ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا: "ان سب کو مار دو”۔
جمعرات کے روز ایک ڈیموکریٹک قانون ساز نے ان کے خلاف مواخذے کی تحریک بھی پیش کردی ہے، اگرچہ اس کے کامیاب ہونے کی توقع کم سمجھی جارہی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.