روس و کیف کے درمیان امن فارمولا تشکیل دینے کی کوششیں تیز, "یوکرین تنازعہ بالآخر حل ہو جائے گا” ٹرمپ

0

واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ روس–یوکرین جنگ کا حل بالآخر ممکن ہوگا اور ان کی انتظامیہ اس مقصد کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں نیشنل کرسمس ٹری لائٹنگ تقریب سے قبل گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا "ہم دنیا بھر میں امن قائم کر رہے ہیں۔ ہم جنگیں ایسے طریقے سے ختم کر رہے ہیں جیسے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ روس–یوکرین تنازع وہ اگلا مرحلہ ہے جسے ہمیں روکنا ہے، اور ہم اس پر بہت محنت کر رہے ہیں۔”

امریکی امن منصوبہ — 28 نکات سے گھٹ کر 22

امریکہ نے یوکرین تنازع کے حل کے لیے 28 نکاتی مجوزہ منصوبہ پیش کیا تھا، تاہم کییف اور یورپی شراکت داروں کے اعتراضات کے بعد اس میں ترامیم کی گئیں۔ ٹرمپ کے مطابق نئی دستاویز 22 نکات پر مشتمل ہے اور زیادہ تر امور پر پیشرفت ہو چکی ہے جبکہ صرف چند اختلافی نکات باقی ہیں۔

23 نومبر کو جنیوا میں امریکی اور یوکرینی حکام نے مذاکرات کیے جبکہ 30 نومبر کو فلوریڈا میں ہونے والی ملاقات میں اقتصادی تعاون، سکیورٹی معاملات، مستقبل کے انتخابات اور متنازع علاقائی نکات پر گفتگو کی گئی۔

روس اور امریکہ کی براہِ راست بات چیت پانچ گھنٹے جاری

2 دسمبر کو کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی امریکی صدارتی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر سے ملاقات ہوئی جو تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہی۔
بات چیت میں امریکی امن منصوبے کی چار متعلقہ دستاویزات کا تکنیکی جائزہ لیا گیا۔ کریملن کے مطابق دونوں ممالک نے مذاکراتی پیشرفت اور آئندہ حکمت عملی پر جامع تبادلہ خیال کیا۔

مزید مذاکرات کا شیڈول طے

یوکرین کی سفیر اولگا اسٹیفانیشینا نے تصدیق کی ہے کہ قومی سلامتی و دفاعی کونسل کے سربراہ رستم عمروف 4 دسمبر کو امریکہ میں فالو اپ مذاکرات میں شرکت کریں گے، جہاں جنگ بندی اور سیاسی حل کے بقیہ نکات پر بات ہوگی۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.