اقوامِ متحدہ کے ماہرین کا بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اظہارِ تشویش

0

اسلام آباد — اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز اور سرکاری اداروں کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلگام حملے کے بعد کیے جانے والے اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین سے متصادم ہیں۔ ماہرین نے واضح کیا کہ سیکورٹی خدشات کے باوجود بھارت پر لازم ہے کہ وہ عالمی قوانین، بنیادی انسانی آزادیوں اور شہری حقوق کا احترام کرے۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق ماہرین کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت اور ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے زیرِ اثر ریاستی مشینری نے مقبوضہ وادی میں گرفتاریوں، محاصروں، ماورائے عدالت کارروائیوں اور آزادی اظہار پر پابندیوں کے ذریعے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ تقریباً 2,800 افراد — جن میں صحافی، سماجی کارکن اور انسانی حقوق کے محافظ شامل ہیں — کو گرفتار یا حراست میں لیا گیا ہے۔

ماہرین نے کشمیر میں رابطوں کی بندش، میڈیا پر قدغنوں، مذہبی و نسلی بنیادوں پر تعصب اور مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کو تشویش ناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیاں، تشدد، امتیازی کارروائیاں اور مکانات و املاک کی جبری مسماری عالمی قوانین، انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت میں 1,900 سے زائد افراد کی غیر قانونی ملک بدری اور سیکیورٹی قوانین کے تحت طویل نظربندی بنیادی آزادیوں کو متاثر کر رہی ہے، جو سماجی تقسیم اور عدم استحکام کو مزید بڑھا رہی ہے۔ ماہرین نے مطالبہ کیا کہ بھارت کشمیری عوام کے بنیادی حقوق بحال کرے، میڈیا پر پابندیاں ختم کی جائیں اور تمام غیر قانونی گرفتار شہریوں کو فوری رہا کیا جائے۔

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل جبر اور ریاستی تشدد نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا رہا ہے بلکہ طویل المدتی امن کے امکانات بھی کمزور کر رہا ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق مسئلہ کشمیر کا مستقل اور پرامن حل ہی خطے میں استحکام اور انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت بن سکتا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.