مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا خطرہ ایران نہیں اسرائیل ہے، سابق سعودی انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل
ابوظہبی: سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف اور شاہی خاندان کے اہم رکن، شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا خطرہ اب ایران نہیں بلکہ اسرائیل ہے۔ یہ بیان انہوں نے ابوظہبی میں ملکن انسٹی ٹیوٹ کے مشرق وسطیٰ اور افریقہ سربراہی اجلاس کے دوران دیا۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا "اس وقت یقینی طور پر اسرائیل ہے۔”
انہوں نے وضاحت کی کہ حالیہ برسوں میں ایران کی جوہری تنصیبات کے حوالے سے امریکہ کی سخت کارروائیوں نے ایران کی خطے میں اثر و رسوخ کو محدود کیا ہے، جبکہ اسرائیل مسلسل شام، فلسطین اور لبنان میں فوجی کارروائیاں کر رہا ہے۔ "اسرائیل تقریباً روزانہ کی بنیاد پر شام پر بمباری کر رہا ہے، فلسطینیوں پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے — چاہے غزہ میں ہو، مغربی کنارے میں یا لبنان میں، جہاں جنگ بندی ہونی چاہیے۔ یہ یقیناً خطے میں امن کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔”
ان کے مطابق، لبنان میں حزب اللہ کی کمزوری اور شام میں حکومت کی تبدیلی کے بعد ایران کے اثر و رسوخ میں کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ اسرائیل کے اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھانے والے ہیں۔
شہزادہ ترکی کے یہ تبصرے اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاض اور اسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لانے کے حوالے سے ابھی کافی فاصلہ باقی ہے، اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں خطے میں وسیع تر بے چینی کا سبب بن رہی ہیں۔