پیوٹن کا یورپی قیادت پر سخت حملہ، یورپی رہنماؤں کو ’’یورپ کے چھوٹے خنزیر‘‘ قرار دے دیا

پیوٹن کا یورپی قیادت پر سخت حملہ، یورپی رہنماؤں کو ’’یورپ کے چھوٹے خنزیر‘‘ قرار دے دیا

ماسکو — روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یورپی قیادت پر شدید اور غیر معمولی تنقید کرتے ہوئے انہیں ’’یورپ کے چھوٹے خنزیر‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ سخت ریمارکس انہوں نے بدھ کے روز روسی وزارتِ دفاع کے سالانہ اجلاس سے خطاب کے دوران دیے، جہاں انہوں نے یوکرین تنازع، مغربی پالیسیوں اور یورپی ممالک کے کردار پر کھل کر بات کی۔

صدر پیوٹن نے کہا کہ یورپی رہنما سابق امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر روسی معیشت کو نقصان پہنچانے اور ملک کے خاتمے سے فائدہ اٹھانے کی امید رکھتے تھے۔ ان کے مطابق، یورپ کی قیادت نے واشنگٹن کی پالیسیوں کی اندھا دھند پیروی کی اور خطے کو ایک بڑے مسلح تصادم کی طرف دھکیلنے میں کردار ادا کیا۔

روسی صدر نے الزام عائد کیا کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے جان بوجھ کر یوکرین بحران کو سفارتی حل سے دور کرتے ہوئے مسلح تصادم کی راہ پر ڈال دیا۔ پیوٹن کا کہنا تھا کہ ’’یورپ کے چھوٹے خنزیر فوری طور پر سابق امریکی انتظامیہ کے ایجنڈے کا حصہ بن گئے، اس امید پر کہ وہ روس کے کمزور ہونے یا خاتمے سے معاشی اور سیاسی فائدہ حاصل کر سکیں گے۔‘‘

پیوٹن نے واضح کیا کہ روس یوکرین میں اپنے علاقائی اور اسٹریٹجک اہداف سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ روس کی اولین ترجیح سفارتکاری کے ذریعے تنازع کا حل اور اس کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ ہے، تاہم اگر مخالف فریق اور اس کے غیر ملکی سرپرست سنجیدہ مذاکرات سے انکار کرتے رہے تو روس کے پاس فوجی ذرائع استعمال کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر ہمیں مجبور کیا گیا تو روس اپنی تاریخی زمینوں کو طاقت کے ذریعے آزاد کرانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘

صدر پیوٹن کے اس بیان کے بعد یورپی دارالحکومتوں میں شدید ردِعمل متوقع ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تقریر روس اور مغرب کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی پیدا کر سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے