ویٹیکن سٹی – پوپ لیو نے امریکی کیتھولک چرچ میں ایک غیر متوقع اور اہم تبدیلی کرتے ہوئے نیویارک کے بااثر آرچ بشپ کارڈینل ٹموتھی ڈولن کی جگہ بشپ رونالڈ ہِکس کو مقرر کر دیا ہے۔ ویٹیکن کی جانب سے جمعرات کو اس فیصلے کا اعلان کیا گیا، جسے امریکا میں کلیسائی قیادت کے ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
پوپ لیو، جو تاریخ کے پہلے امریکی پوپ ہیں، نے الینوائے سے تعلق رکھنے والے نسبتاً کم معروف بشپ رونالڈ ہِکس کو نیویارک کے آرک ڈائیوسیز کا نیا سربراہ نامزد کیا۔ نیویارک کا آرک ڈائیوسیز امریکا کا دوسرا بڑا کیتھولک انتظامی علاقہ ہے، جس کے تحت تقریباً 28 لاکھ کیتھولک افراد آتے ہیں۔
کارڈینل ٹموتھی ڈولن 2009 سے نیویارک کے آرچ بشپ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور وہ یو ایس کیتھولک بشپس کانفرنس کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں۔ چرچ قوانین کے مطابق 75 برس کی عمر مکمل ہونے پر انہوں نے فروری میں استعفیٰ پیش کیا تھا، اگرچہ کارڈینلز عموماً 80 سال کی عمر تک خدمات سرانجام دیتے ہیں۔
امریکی چرچ امور کے ماہر ڈیوڈ گبسن کے مطابق،
“رونالڈ ہِکس کی تقرری نہ صرف نیویارک بلکہ مجموعی طور پر امریکی کیتھولک چرچ کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔”
نیویارک کا آرک ڈائیوسیز ایک وسیع اور بااثر ادارہ ہے، جو مین ہیٹن، برونکس، اسٹیٹن آئی لینڈ اور شمالی نیویارک کی سات کاؤنٹیوں میں 296 پارشوں کے علاوہ سیکڑوں کیتھولک اسکولوں اور اسپتالوں کی نگرانی کرتا ہے۔
یہ قیادت کی تبدیلی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیویارک آرک ڈائیوسیز کو پادریوں کے جنسی استحصال کے متاثرین کے ساتھ ممکنہ تصفیوں کے لیے 300 ملین ڈالر سے زائد رقم اکٹھی کرنے کے سنگین چیلنج کا سامنا ہے۔ چرچ انتظامیہ تقریباً 1,300 متاثرین کے ساتھ ثالثی کے عمل میں شامل ہے۔
کارڈینل ڈولن نے رواں ماہ 8 دسمبر کو اعلان کیا تھا کہ مالی دباؤ کے باعث آرک ڈائیوسیز اپنے آپریٹنگ بجٹ میں 10 فیصد کمی، عملے میں چھانٹیاں اور بعض جائیدادوں کی فروخت پر مجبور ہوگا۔
58 سالہ بشپ رونالڈ ہِکس 2020 سے الینوائے کی ول کاؤنٹی میں واقع جولیٹ کے ڈائیوسیز کے سربراہ رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ شکاگو کے کارڈینل بلیز کیوچ کے ماتحت معاون بشپ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ بشپ ہِکس اور پوپ لیو کی زندگیوں میں نمایاں مماثلت پائی جاتی ہے۔ دونوں کا تعلق شکاگو کے جنوبی مضافاتی علاقوں سے ہے اور دونوں نے لاطینی امریکا میں بطور مشنری خدمات انجام دیں—پوپ لیو نے پیرو میں جبکہ بشپ ہِکس نے ایل سلواڈور میں۔
فورڈھم یونیورسٹی کے سینٹر آن ریلیجن اینڈ کلچر کے ڈائریکٹر ڈیوڈ گبسن کے مطابق،
“پوپ لیو نے واضح طور پر ایسے امریکی رہنما کو ترجیح دی ہے جو فکری اور تجرباتی طور پر ان سے قربت رکھتا ہو۔”
