واشنگٹن – ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم TikTok نے اپنے امریکی کاروبار کو امریکی سرمایہ کاروں کے ایک کنسورشیم کو فروخت کرنے کے لیے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد ایپ کی امریکا میں سرگرمیاں جاری رہنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ یہ معاہدہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے طے پایا ہے۔
ذرائع کے مطابق TikTok نے اپنا امریکی ادارہ تین بڑی امریکی سرمایہ کاری کمپنیوں—اوریکل (Oracle)، سلور لیک (Silver Lake) اور ابوظہبی میں قائم سرمایہ کاری فنڈ MGX—کو فروخت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز کے مطابق یہ معاہدہ 22 جنوری کو حتمی طور پر مکمل ہونے کی توقع ہے۔
TikTok کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شو زی چیو نے ایک اندرونی میمو میں تصدیق کی کہ ByteDance اور TikTok نے تینوں سرمایہ کاروں کے ساتھ پابند معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں۔
معاہدے کے تحت نیا TikTok US جوائنٹ وینچر 50 فیصد امریکی سرمایہ کاروں کے کنسورشیم کی ملکیت ہوگا، جس میں اوریکل، سلور لیک اور MGX ہر ایک کا 15 فیصد حصہ ہوگا۔ اس کے علاوہ 30.1 فیصد حصص ByteDance کے موجودہ سرمایہ کاروں سے منسلک اداروں کے پاس ہوں گے، جبکہ 19.9 فیصد حصص بدستور ByteDance کے پاس رہیں گے۔
وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق، معاہدے کے ایک اہم حصے کے طور پر اوریکل TikTok کے تجویز کردہ الگورتھم کی ایک کاپی کا لائسنس حاصل کرے گا۔ اس شراکت داری کے تحت اوریکل کو TikTok کے امریکی صارفین کے ڈیٹا کے انتظام میں پہلے سے زیادہ کردار حاصل ہوگا، جسے امریکی حکام قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے اہم قرار دے رہے ہیں۔
تاہم، اس معاہدے پر سیاسی اور پالیسی حلقوں میں تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ ڈیموکریٹک سینیٹر الزبتھ وارن نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ
“پہلے پیراماؤنٹ/سی بی ایس اور اب TikTok—ٹرمپ اپنے ارب پتی دوستوں کو یہ طے کرنے کا مزید اختیار دینا چاہتے ہیں کہ عوام کیا دیکھیں۔ امریکی عوام یہ جاننے کے حقدار ہیں کہ آیا TikTok کے اس ارب پتی ٹیک اوور کے پیچھے کوئی خفیہ ڈیل موجود ہے یا نہیں۔”
سابق بائیڈن انتظامیہ میں قومی سلامتی کونسل کے اہلکار رش دوشی نے بھی معاہدے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ TikTok کے الگورتھم پر اصل کنٹرول کس کے پاس ہوگا۔ ان کے مطابق، اگرچہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ الگورتھم امریکی ڈیٹا پر تربیت پائے گا، لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا وہ مکمل طور پر منتقل یا لائسنس کیا گیا ہے یا بدستور بیجنگ کے کنٹرول میں ہے۔
یہ پیش رفت ایک طویل تاخیری عمل کے بعد سامنے آئی ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ برس ستمبر میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے اس معاملے پر بات کی ہے اور بیجنگ نے معاہدے پر پیش رفت کی اجازت دی ہے۔ اکتوبر میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی اعلان کیا تھا کہ امریکا اور چین TikTok سے متعلق حتمی معاہدے پر پہنچ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ 2020 میں اپنی پہلی صدارت کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی خدشات کے باعث TikTok پر پابندی لگانے کی دھمکی دی تھی۔ بعد ازاں امریکی کانگریس نے بھی ایپ پر پابندی سے متعلق قانون منظور کیا، جس پر صدر جو بائیڈن نے اپریل 2024 میں دستخط کیے تھے۔ اس قانون کے تحت TikTok پر پابندی 20 جنوری 2025 سے نافذ ہونا تھی، تاہم ٹرمپ کی جانب سے اس پر عمل درآمد کو متعدد بار مؤخر کیا گیا تاکہ ملکیت کی منتقلی کا معاہدہ طے پا سکے۔
