ریاض — سعودی عرب میں اقامہ، لیبر اور سرحدی قوانین کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران صرف ایک ہفتے میں 12 ہزار سے زائد غیرقانونی تارکین وطن کو ملک بدر کر دیا گیا۔
سعودی پریس ایجنسی (SPA) اور اردو نیوز کے مطابق 11 سے 17 دسمبر کے دوران مجموعی طور پر 17 ہزار 880 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں، جن کے نتیجے میں 12 ہزار 661 غیرقانونی تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا گیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس دوران:
-
11 ہزار 190 افراد کو اقامہ قانون کی خلاف ورزی پر
-
3 ہزار 801 افراد کو غیرقانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش پر
-
2 ہزار 889 افراد کو لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا
اسی طرح غیرقانونی طور پر سعودی عرب میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 1 ہزار 509 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا، جن میں 55 فیصد ایتھوپیا، 44 فیصد یمن جبکہ ایک فیصد دیگر ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔
حکام کے مطابق 40 افراد ایسے بھی گرفتار کیے گئے جو غیرقانونی طور پر سعودی عرب سے ہمسایہ ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ 15 افراد کو سفر، رہائش، روزگار یا پناہ فراہم کرنے جیسے جرائم میں ملوث ہونے پر حراست میں لیا گیا۔
سعودی وزارت داخلہ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ غیرقانونی تارکین وطن کو سہولت فراہم کرنا سنگین جرم ہے۔ ایسے افراد کو 15 سال تک قید، 10 لاکھ سعودی ریال تک جرمانہ جبکہ گاڑی اور جائیداد کی ضبطی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مملکت میں قانون کی بالادستی یقینی بنانے اور لیبر مارکیٹ کو منظم رکھنے کے لیے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
