اسرائیل نےمقبوضہ مغربی کنارے میں 19 نئی یہودی بستیوں کے قیام کی منظوری دے دی ہے

0

غزہ — اسرائیل نے فلسطینی ریاست کے قیام کے راستے کو روکنے کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے میں مزید 19 یہودی بستیوں کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی کابینہ نے نئی بستیوں کے قیام کو حتمی شکل دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد گزشتہ تین سالوں کے دوران منظور شدہ یہودی بستیوں کی کل تعداد 69 ہو گئی ہے۔

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کابینہ نے Judea اور Samaria (مقبوضہ مغربی کنارے) میں بستیوں کے قیام اور توسیع کی منظوری دی ہے۔ بیزلیل سموٹریچ نے خود بھی مقبوضہ علاقوں میں آبادکار ہیں اور انہوں نے اعلان کیا:
"ہم عملی طور پر فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ روک رہے ہیں، اپنی آبائی زمین کو آباد کرنے اور ترقی دینے کا عمل جاری رکھیں گے۔”

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے حال ہی میں مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی توسیع کی شدید مذمت کی ہے۔ عالمی برادری نے بارہا اس عمل کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا ہے، اور گزشتہ برس کے بعد سے یہ یہودی بستیوں کی توسیع اعلی ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

غزہ میں جاری کشیدگی اور حالیہ یورپی ممالک، کینیڈا اور آسٹریلیا کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اقدامات کے بعد فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبات میں شدت آئی ہے، جس پر اسرائیل نے اپنی پالیسی اور بستیوں کی توسیع کو مزید آگے بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.