سوئٹزرلینڈ کی عدالت نے عالمی سیمنٹ ساز کمپنی ہولسیم کے خلاف ماحولیاتی مقدمہ قابلِ سماعت قرار دے دیا

0

زیورخ — سوئٹزرلینڈ کی ایک عدالت نے عالمی سیمنٹ ساز کمپنی ہولسیم (Holcim) کے خلاف گلوبل وارمنگ سے متعلق دائر قانونی شکایت کو باقاعدہ طور پر قابلِ سماعت قرار دے دیا ہے۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمپنی کاربن اخراج میں کمی کے لیے ناکافی اقدامات کر رہی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انڈونیشیا کے نشیبی جزیرے پاری کے چار رہائشیوں نے جنوری 2023 میں سوئس شہر زوگ کی کینٹونل عدالت میں ہولسیم کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ مدعیان کا مؤقف ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث سمندر کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں ان کا جزیرہ بار بار شدید سیلاب کی زد میں آ رہا ہے۔

یہ مقدمہ سوئس چرچ ایڈ (HEKS/EPER) کی معاونت سے دائر کیا گیا، جس نے تصدیق کی ہے کہ عدالت نے شکایت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں کسی بڑی کارپوریشن کے خلاف آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق قانونی چارہ جوئی کو عدالت میں باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ہولسیم نے بھی عدالت کی جانب سے کیس تسلیم کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کمپنی اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔

ہولسیم کا کہنا ہے کہ وہ 2050 تک نیٹ زیرو کاربن اخراج کے ہدف کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے سائنسی بنیادوں پر مبنی حکمتِ عملی پر عمل کر رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق 2015 کے بعد سے اس نے اپنے آپریشنز سے براہِ راست کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 50 فیصد سے زائد کمی کی ہے۔

مدعیان نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہولسیم:

  • ماحولیاتی نقصانات کا معاوضہ ادا کرے

  • سیلاب سے بچاؤ کے اقدامات میں مالی تعاون فراہم کرے

  • اور CO2 کے اخراج میں تیزی سے کمی کے لیے عملی اقدامات کرے

واضح رہے کہ گلوبل سیمنٹ اینڈ کنکریٹ ایسوسی ایشن کے مطابق دنیا بھر میں سیمنٹ کی پیداوار عالمی کاربن اخراج کا تقریباً 7 فیصد حصہ بنتی ہے، جس کے باعث یہ صنعت ماحولیاتی مباحث میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ مقدمہ نہ صرف سوئٹزرلینڈ بلکہ عالمی سطح پر کارپوریٹ ماحولیاتی ذمہ داری کے حوالے سے ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.