ملائیشیا کی عدالت نے سابق وزیراعظم نجیب رزاق کی گھر پر سزا گزارنے کی درخواست مسترد کر دی

0

کوالالمپور — ملائیشیا کی ایک عدالت نے پیر کے روز جیل میں قید سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کی جانب سے اپنی باقی ماندہ سزا گھر پر گزارنے کی درخواست مسترد کر دی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نجیب کو رواں ہفتے ملٹی بلین ڈالر کے 1MDB کرپشن اسکینڈل میں دو اہم عدالتی فیصلوں کا سامنا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نجیب رزاق 2022 سے قید ہیں اور ان کی 12 سالہ سزا کو گزشتہ برس ملک کے سابق بادشاہ کی سربراہی میں قائم معافی بورڈ نے نصف کر کے چھ سال کر دیا تھا۔ تاہم نجیب کا مؤقف ہے کہ بادشاہ نے ایک "اضافی شاہی حکم” بھی جاری کیا تھا جس کے تحت ان کی سزا کو گھر پر نظر بندی میں تبدیل کیا جانا تھا۔

نجیب نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت کو اس دستاویز کے وجود کی تصدیق اور اس پر عملدرآمد کا پابند بنایا جائے۔ اگرچہ کئی ماہ تک معافی بورڈ کے ارکان اور سرکاری حکام اس اضافی حکم کے وجود سے انکار کرتے رہے، تاہم رواں سال سابق بادشاہ کے دفتر اور ایک وفاقی وکیل نے شاہی دستاویز کے جاری ہونے کی تصدیق کی تھی۔

کوالالمپور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ اس دستاویز کے وجود پر اب کوئی تنازع نہیں، تاہم یہ حکم آئینی طور پر قابلِ عمل نہیں کیونکہ اسے معافی بورڈ کی لازمی مشاورت کے بغیر جاری کیا گیا تھا۔

عدالت کی جج ایلس لوک نے فیصلے میں کہا کہ ملائیشیا کے آئین کے تحت بادشاہ کو معافی دینے کا اختیار حاصل ہے، تاہم یہ اختیار معافی بورڈ کے مشورے سے مشروط ہے۔
انہوں نے کہا،
"اضافی حکم پر معافی بورڈ کے اجلاس میں نہ غور کیا گیا اور نہ ہی اس کی منظوری دی گئی، اس لیے یہ ایک درست اور قانونی حکم نہیں ہے۔”

نجیب رزاق کے وکیل محمد شفیع عبداللہ نے فیصلے کے فوراً بعد اعلان کیا کہ وہ اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

مزید قید کا خطرہ برقرار

یہ فیصلہ 1MDB اسکینڈل سے متعلق نجیب کے سب سے بڑے مقدمے میں متوقع عدالتی فیصلے سے صرف چار دن قبل سامنے آیا ہے۔ واضح رہے کہ 1MDB ریاستی سرمایہ کاری فنڈ نجیب نے 2009 میں مشترکہ طور پر قائم کیا تھا۔

امریکی تفتیش کاروں کے مطابق 1MDB سے کم از کم 4.5 ارب ڈالر کا غلط استعمال کیا گیا، جس میں سے مبینہ طور پر ایک ارب ڈالر سے زائد رقم نجیب سے منسلک بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہوئی۔

نجیب کو 2020 میں 1MDB سے فنڈز کے غلط استعمال، بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا، اور 2022 میں تمام اپیلیں مسترد ہونے کے بعد وہ ملائیشیا کے پہلے سابق وزیر اعظم بنے جو جیل گئے۔

مزید فیصلے 26 دسمبر کو متوقع

عدالت 26 دسمبر کو یہ فیصلہ سنائے گی کہ آیا نجیب کو:

  • بدعنوانی کے چار اضافی الزامات

  • اور 1MDB سے تقریباً 2.2 ارب رنگٹ (538.7 ملین ڈالر) کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق 21 منی لانڈرنگ الزامات

میں مجرم قرار دیا جائے یا نہیں۔
قصوروار ثابت ہونے کی صورت میں نجیب کو ہر الزام پر 20 سال تک قید اور مبینہ رقم کے پانچ گنا تک جرمانے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

یہ دونوں عدالتی فیصلے موجودہ وزیر اعظم انور ابراہیم کی بدعنوانی کے خلاف مہم کے لیے ایک بڑے امتحان کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف ناٹنگھم ایشیا کی سیاسی تجزیہ کار بریجٹ ویلش کا کہنا ہے:
"یہ مقدمہ صرف استغاثہ یا عدلیہ کا نہیں بلکہ سیاسی عزم اور نظامِ انصاف کی ساکھ کا بھی امتحان ہے۔”

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.