افغانستان: منشیات اور شراب اسمگلنگ میں ملوث 11 افراد کو سرِعام کوڑوں کی سزا، اقوام متحدہ کا اظہارِ تشویش

0

کابل – افغانستان میں طالبان حکومت نے منشیات اور شراب کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے شواہد ملنے پر 11 افراد کو سرِعام کوڑوں کی سزا پر عمل درآمد کر دیا ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق ان افراد کے خلاف سزائیں سپریم کورٹ میں بھی برقرار رکھی گئی تھیں، جس کے بعد عدالتی فیصلے پر آج عمل درآمد کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق جن افراد کو سرِعام سزا دی گئی ان پر نشہ آور گولیوں، میتھامفیٹامین، شراب اور چرس کی اسمگلنگ اور فروخت کے الزامات ثابت ہوئے تھے۔ عدالتی کارروائی کے دوران ملزمان نے اعترافِ جرم بھی کیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ہر مجرم کو جرم کی نوعیت کے پیش نظر کم از کم 10 اور زیادہ سے زیادہ 30 کوڑے مارے گئے، جبکہ انہیں 7 ماہ سے 3 سال تک قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

طالبان حکام کے مطابق امیر طالبان ملا ہبتہ اللہ اخوندزادہ کی ہدایت پر قتل اور منشیات اسمگلنگ جیسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کو سزائیں دینے کے عمل میں تیزی لائی گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران ملک بھر میں کم از کم 346 افراد کو مختلف جرائم میں سرِعام کوڑوں کی سزا دی جا چکی ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے ان سزاؤں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان اداروں کا کہنا ہے کہ سرِعام جسمانی سزائیں بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم ہیں اور اس سے معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کو فروغ ملتا ہے۔

تاہم طالبان حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ سزائیں اسلامی قوانین کے تحت دی جا رہی ہیں اور ان کا مقصد معاشرے میں جرائم کا خاتمہ اور نظم و ضبط کا قیام ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.