ٹرمپ کا جنسی مجرم جیفری ایپسٹین فائلوں کے مزید اجرا پر تحفظات، بے گناہ افراد کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ
واشنگٹن – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق تحقیقاتی فائلوں کے مزید اجرا سے ایسے افراد کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے جنہوں نے ماضی میں ان سے محض “معصومانہ طور پر ملاقات” کی تھی۔
یہ ٹرمپ کے وہ پہلے عوامی تبصرے ہیں جو انہوں نے اس وقت کیے جب امریکی محکمہ انصاف نے جمعہ کے روز ایپسٹین کیس سے متعلق فائلیں جاری کرنا شروع کیں۔ اس موقع پر انہوں نے ایپسٹین معاملے پر جاری بحث کو اپنی جماعت کی سیاسی کامیابیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔
مار-اے-لاگو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا “ایپسٹین کے ساتھ یہ سارا معاملہ ریپبلکن پارٹی کو حاصل ہونے والی زبردست کامیابیوں سے توجہ ہٹانے کا ایک طریقہ ہے۔”
بل کلنٹن کی تصاویر پر ردعمل
جب ٹرمپ سے سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے بارے میں سوال کیا گیا، جن کی تصاویر محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی فائلوں کے پہلے بیچ میں نمایاں تھیں، تو انہوں نے کہا “میں بل کلنٹن کو پسند کرتا ہوں، میں نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے۔ مجھے ان کی تصاویر دیکھ کر افسوس ہوا۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ خود ان کی بھی ایپسٹین کے ساتھ تصاویر موجود ہیں۔ “ہر کوئی اس آدمی کے ساتھ دوستانہ تھا،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے تصاویر کے اجرا کو “خوفناک چیز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بل کلنٹن جیسے سیاسی رہنما اس صورتحال سے نمٹ سکتے ہیں، تاہم دیگر افراد کے لیے یہ معاملہ زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق “اب شاید ایسے لوگوں کی تصاویر سامنے آ رہی ہیں جو کئی سال پہلے جیفری ایپسٹین سے بے گناہی میں ملے تھے۔ ان میں انتہائی معزز بینکر، وکلا اور دیگر پیشہ ور افراد شامل ہیں، جن کا ایپسٹین سے کوئی حقیقی تعلق نہیں تھا۔”
ان کا کہنا تھا کہ محض کسی تقریب یا پارٹی میں موجودگی کی بنیاد پر کسی شخص کی تصویر سامنے آنا اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ “آپ کسی کی ساکھ برباد کر دیتے ہیں، صرف اس لیے کہ وہ ایک تصویر میں نظر آ رہا ہے،” ٹرمپ نے کہا۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین، جو ایک امیر اور بااثر فنانسر تھا، 2019 میں نیویارک کی ایک جیل میں اس وقت ہلاک ہو گیا تھا جب وہ کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے الزامات پر مقدمے کی سماعت کا انتظار کر رہا تھا۔ سرکاری طور پر اس کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا، تاہم یہ کیس اب بھی عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔