ممنوعہ نازی علامت کی نمائش کے الزام پر آسٹریلیا نے برطانوی شہری کا ویزا منسوخ کر دیا
سڈنی — آسٹریلیا نے ایک برطانوی شہری کا ویزا اس الزام کے بعد منسوخ کر دیا ہے کہ اس نے ممنوعہ نازی علامت کی نمائش کی اور سوشل میڈیا پر یہودی برادری کے خلاف تشدد کی حمایت کی۔ یہ اقدام بوندی بیچ میں حالیہ ہلاکت خیز فائرنگ کے بعد ملک میں سام دشمنی کے خلاف کریک ڈاؤن کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
آسٹریلوی وفاقی پولیس کے مطابق 43 سالہ شخص کا ویزا 8 دسمبر کو منسوخ کیا گیا، جب اس پر نازی ہیکنکریوز (سواستیکا کی ایک شکل) دکھانے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر یہودی برادری کے خلاف نفرت انگیز اور تشدد پر اکسانے والے پیغامات شائع کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
امیگریشن کے وزیر اینڈریو برک نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو بتایا کہ اگر کوئی شخص ویزے پر آسٹریلیا آتا ہے تو وہ یہاں مہمان کے طور پر آتا ہے، اور اگر وہ نفرت پھیلانے کے مقاصد کے لیے آئے تو اسے ملک چھوڑ دینا ہوگا۔ پولیس اور حکومت نے اس شخص کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق ویزا منسوخی کے بعد اسے کوئنز لینڈ میں امیگریشن حراست میں لے لیا گیا ہے اور اگر وہ رضاکارانہ طور پر ملک نہ چھوڑے تو اسے ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب 14 دسمبر کو سڈنی کے معروف بوندی بیچ پر ایک باپ اور بیٹے کی جانب سے یہودی برادری کی حنوکا تقریب پر فائرنگ کے واقعے میں 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے میں باپ ساجد اکرم مارا گیا جبکہ بیٹے نوید اکرم پر قتل اور دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
اسی پس منظر میں وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت سام دشمنی کے خلاف سخت اقدامات کے لیے قانونی حد کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاکہ نفرت کو بھڑکانے والے اقدامات کو بھی ویزا منسوخی کے لیے کافی بنیاد بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ایسے افراد کے لیے آسٹریلیا میں کوئی گنجائش نہیں چھوڑنا چاہتی جو کمیونٹی کے خلاف نفرت اور تشدد کو فروغ دیتے ہوں۔