وینزویلا میں دھماکے، حکومت کا امریکا پر فوجی جارحیت کا الزام، مادورو نے قومی ایمرجنسی نافذ کر دی

0

کاراکاس – وینزویلا نے دارالحکومت کاراکاس اور ملک کے مختلف حصوں میں ہفتے کی صبح ہونے والے متعدد دھماکوں کے بعد امریکا پر ’’فوجی جارحیت‘‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد صدر نکولس مادورو نے قومی ایمرجنسی کا اعلان اور دفاعی فورسز کو متحرک کر دیا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق حملے مرانڈا، آراگوا اور لا گوائرا کی ریاستوں میں بھی رپورٹ ہوئے، جن کے بعد حکومت نے سماجی اور سیاسی قوتوں سے ہنگامی منصوبوں کو فعال کرنے کی اپیل کی۔ عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر کے مطابق دھماکے، طیاروں کی آوازیں اور سیاہ دھوئیں کے بادل تقریباً مقامی وقت کے مطابق صبح دو بجے سے کاراکاس میں دیکھے گئے، جب کہ شہر کے جنوبی علاقوں میں ایک بڑے فوجی اڈے کے قریب بجلی کی بندش بھی ہوئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل متعدد بار وینزویلا میں زمینی آپریشن کی بات کر چکے ہیں اور رواں ہفتے انہوں نے کہا تھا کہ مادورو کے لیے اقتدار چھوڑنا ’’دانشمندانہ‘‘ ہوگا، تاہم ان بیانات کے باوجود وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے دھماکوں کے حوالے سے رائٹرز کی درخواستوں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ پینٹاگون نے سوالات وائٹ ہاؤس کو بھیج دیے، جس نے تبصرے سے انکار کر دیا۔

وینزویلا کی حکومت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کا مقصد امریکا کی جانب سے ملک کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہے، اور اس بات پر زور دیا گیا کہ واشنگٹن اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوگا۔ امریکی میڈیا کی رپورٹر جینیفر جیکبز نے ایک پوسٹ میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکار کاراکاس میں دھماکوں اور طیاروں کی اطلاعات سے آگاہ ہیں۔

حکومت کی جانب سے مزید تفصیلات یا ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ صورتحال بدستور غیر واضح اور کشیدہ بنی ہوئی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.