صومالی لینڈ صومالیہ کا اٹوٹ حصہ ہے اس کی علیحدہ ریاست کے طور پر کوئی قانونی حیثیت نہیں: صدر حسن شیخ محمد
موغادیشو – صومالی صدر حسن شیخ محمد نے صومالی لینڈ سے متعلق حالیہ پیش رفت کو صومالیہ کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے لیے ایک ’’وجودی خطرہ‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان اقدامات سے ملک کو حالیہ برسوں کا سب سے سنگین چیلنج درپیش ہے۔
العربیہ انگلش کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر محمد نے زور دیا کہ صومالی لینڈ صومالیہ کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس کی علیحدہ ریاست کے طور پر کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’نام نہاد صومالی لینڈ صومالیہ کا ایک اور خطہ ہے‘‘ اور دعویٰ کیا کہ اتحاد کو پرامن طریقے سے برقرار رکھنے کی کوششوں کو ایسے اقدامات سے نقصان پہنچایا جا رہا ہے جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
صدر کے مطابق صومالی لینڈ کی قیادت قانونی حیثیت سے محروم ہے اور مایوسی کے عالم میں ایسے فیصلے کر رہی ہے جن کا مقصد کسی بھی قیمت پر بین الاقوامی شناخت حاصل کرنا ہے، تاہم انہوں نے اس علیحدگی پسند منصوبے کو ’’ناقابل عمل‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ اس کے صومالی لینڈ سے جڑے تین بنیادی مقاصد ہیں: خلیج عدن اور بحیرہ احمر کے قریب ایک فوجی اڈہ قائم کرنا، صومالی لینڈ کو بے گھر فلسطینیوں کو قبول کرنے پر آمادہ کرنا، اور وہاں کی قیادت کو ابراہیم معاہدے میں شامل کرنا۔ صدر محمد نے فلسطینیوں کی جبری منتقلی سے متعلق کسی بھی منصوبے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صومالیہ ایسے کسی اقدام کو ’’کسی بھی صورت‘‘ قبول نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ صومالیہ کی سرحد فلسطین سے نہیں ملتی اور اس خیال کو ’’اسرائیل کا خواب‘‘ قرار دیا جو ان کے بقول ’’کبھی پورا نہیں ہوگا‘‘۔
صدر نے متنبہ کیا کہ صومالیہ کو اس وقت حالیہ برسوں کا سب سے سنگین خطرہ درپیش ہے، جو دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ سے بھی بڑھ کر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ترجیحی راستہ مذاکرات ہے، تاہم اگر قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس مسئلے کو صومالیہ کی خودمختاری کے لیے براہ راست چیلنج سمجھتے ہوئے ہر ضروری اقدام کرے گی اور اسے ملکی سیاست سے بالاتر ہو کر علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں لے جائے گی۔