مزید مظاہرین کی ہلاکت پر امریکا ایران پر ’بہت زوردار‘ حملہ کرے گا: ٹرمپ کی پھر دھمکی

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جاری احتجاج کے دوران مزید مظاہرین ہلاک ہوئے تو امریکا ایران پر ’’بہت زوردار‘‘ حملہ کرے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز صدارتی طیارے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی حکام نے ماضی کی طرح مظاہرین کو نشانہ بنانا شروع کیا تو امریکا خاموش نہیں رہے گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا، ’’ہم اس معاملے کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں، اگر انہوں نے لوگوں کو مارنا شروع کر دیا تو میرا خیال ہے کہ امریکا بھرپور اور زوردار ردعمل دے گا۔‘‘

ایران میں حالیہ مظاہرے دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں۔ احتجاج کا آغاز 28 دسمبر کو تہران میں دکانداروں کی ہڑتال سے ہوا، جس کی بنیادی وجہ مہنگائی کا شدید بحران اور ایرانی ریال کی تاریخی گراوٹ بتائی جا رہی ہے۔

سرکاری اطلاعات کے مطابق اب تک کم از کم 15 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ ایران میں 2022 اور 2023 کے دوران ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی زیرِ حراست ہلاکت کے بعد ایک بڑی احتجاجی تحریک شروع ہوئی تھی۔ مہسا امینی کو خواتین کے لیے نافذ سخت ضابطۂ لباس کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد ملک گیر مظاہروں نے جنم لیا۔

مبصرین کے مطابق موجودہ احتجاجی لہر 2022–23 کی تحریک کے بعد شدت اور دائرہ کار کے لحاظ سے سب سے بڑی سمجھی جا رہی ہے، جبکہ امریکی صدر کے تازہ بیان نے خطے میں کشیدگی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.