ٹرمپ انتظامیہ کا گرین لینڈ حاصل کرنے پر غور، فوجی آپشن بھی زیرِ بحث، وائٹ ہاؤس کی تصدیق
واشنگٹن – وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یورپی ممالک کے اعتراضات کے باوجود اسٹریٹجک اہمیت کے حامل جزیرے گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں امریکی فوج کے ممکنہ استعمال کا پہلو بھی شامل ہے۔
وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق صدر ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کو امریکی قومی سلامتی کی ایک اہم ترجیح سمجھتے ہیں، جس کا مقصد آرکٹک خطے میں بڑھتے ہوئے حریفوں کے اثر و رسوخ کو روکنا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر اور ان کی ٹیم اس خارجہ پالیسی ہدف کے حصول کے لیے متعدد راستوں پر تبادلہ خیال کر رہی ہے، اور بطور کمانڈر انچیف امریکی فوج کا استعمال بھی ایک ممکنہ آپشن کے طور پر زیرِ غور ہے۔
واضح رہے کہ گرین لینڈ کی قیادت متعدد بار اس بات کی وضاحت کر چکی ہے کہ وہ امریکا کا حصہ بننے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ منگل کے روز بڑی یورپی طاقتوں اور کینیڈا کے رہنماؤں نے بھی آرکٹک خطے کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ اس کے عوام کا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نیٹو کے دیرینہ اتحادی ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے گرین لینڈ پر امریکی فوجی قبضہ نیٹو اتحاد کے اندر شدید ردعمل کا باعث بن سکتا ہے اور امریکا و یورپی رہنماؤں کے درمیان اختلافات کو مزید گہرا کر دے گا۔
اس کے باوجود سخت عالمی مخالفت نے صدر ٹرمپ کو گرین لینڈ کو ایک ایسے خطے میں امریکی اسٹریٹجک مرکز بنانے کے امکانات پر غور کرنے سے نہیں روکا جہاں روس اور چین کی دلچسپی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کی گرین لینڈ میں دلچسپی پہلی بار 2019 میں ان کی ابتدائی صدارتی مدت کے دوران سامنے آئی تھی، جو حالیہ دنوں میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکی گرفتاری کے پس منظر میں دوبارہ نمایاں ہوئی ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے مادورو کی گرفتاری کے بعد صدر ٹرمپ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ مغربی نصف کرہ میں امریکی بالادستی پر دوبارہ کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکے گا، اور اسی تناظر میں کولمبیا اور کیوبا پر بھی دباؤ بڑھایا گیا ہے۔
ایک سینئر امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صدر ٹرمپ اور ان کے مشیر گرین لینڈ کے حصول کے مختلف ممکنہ طریقوں پر داخلی سطح پر غور و خوض کر رہے ہیں۔