یمنی صدارتی کونسل کا اجلاس: دو وزراء برطرف، الزبیدی کی رکنیت ختم، اسلحہ تقسیم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم

0

ریاض – یمن میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر یمنی صدارتی قیادت کونسل نے ہنگامی اجلاس کے بعد اہم اور سخت فیصلوں کا اعلان کر دیا ہے۔ کونسل نے فوجی اور سکیورٹی فیصلوں کی وحدت کو ناقابلِ سمجھوتا قرار دیتے ہوئے جنوبی عبوری کونسل (STC) کے سربراہ عیدروس الزبیدی کی رکنیت ختم کرنے اور ان کے خلاف سنگین غداری کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یمنی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدارتی کونسل نے الزبیدی کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے معاملہ اٹارنی جنرل کے سپرد کر دیا ہے، جبکہ وزیرِ ٹرانسپورٹ عبدالسلام حمید اور وزیرِ منصوبہ بندی و بین الاقوامی تعاون واعد باذیب کو ان کے عہدوں سے برطرف کر کے تحقیقات کی سفارش کر دی گئی ہے۔

کونسل نے اسلحہ تقسیم کرنے، غیر قانونی نقل و حرکت اور عوامی امن کو خطرے میں ڈالنے میں ملوث تمام عناصر کی گرفتاری اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کا بھی حکم دیا ہے۔ بدھ کو جاری بیان میں واضح کیا گیا کہ ریاست قانون کی بالادستی، عوامی حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی قسم کی بغاوت یا تجاوز کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

بیان میں زور دیا گیا کہ فوجی و سکیورٹی فیصلوں کی وحدت اور کمان کے نظام کا احترام بنیادی اصول ہے، اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو آئین اور قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے گا۔ صدارتی کونسل نے متعدد فوری اقدامات کی منظوری بھی دی، جن کے تحت عبوری دارالحکومت عدن اور آزاد کرائے گئے صوبوں میں شہریوں اور سرکاری تنصیبات کے تحفظ کے لیے سکیورٹی اقدامات مزید سخت کیے جائیں گے۔

کونسل نے تمام فوجی اور سکیورٹی دستوں کی کمان اور کنٹرول کو متحد کرنے، اور ریاستی دائرہ اختیار سے باہر کسی بھی قسم کی متحرک سرگرمی یا اسلحہ بند نقل و حرکت کو روکنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کشیدگی میں کمی اور ملک کو نئی داخلی لڑائی سے بچانے کے لیے سعودی عرب اور عرب اتحاد (برائے بحالیِ دستور) کی کوششوں کو سراہا گیا ہے۔

یمنی صدارتی کونسل نے عدن اور ملک بھر کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور امن و امان کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل عرب اتحاد نے انکشاف کیا تھا کہ عیدروس الزبیدی ریاض میں ہونے والی یمنی کانفرنس میں شرکت کے اعلان کے باوجود عبوری کونسل کو اطلاع دیے بغیر نامعلوم مقام کی طرف فرار ہو گئے تھے۔ اتحاد کے مطابق الزبیدی نے عدن کے قریب فوجی کیمپوں سے بھاری اور ہلکے اسلحے سے لیس دستے صوبہ الضالع کی جانب روانہ کیے اور شہر میں افراتفری پھیلانے کے لیے مختلف عناصر میں اسلحہ اور گولہ بارود تقسیم کیا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.