امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر وہاں لوگوں کو قتل کیا گیا تو واشنگٹن مداخلت کرے گا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مداخلت کا مطلب ایران میں فوجی دستے اتارنا نہیں ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اس وقت شدید مشکلات سے دوچار ہے اور ان کے بقول انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ایران کے کچھ شہروں پر عوام نے قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایرانی حکومت برسوں سے اپنے شہریوں کے ساتھ برا سلوک کرتی آ رہی ہے اور اب حکومت کو اپنی پالیسیوں کا جواب عوام کی جانب سے مل رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایران میں جاری پرتشدد مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 217 تک پہنچ چکی ہے۔
اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت سمیت آٹھ جنگیں رکوائیں، جبکہ پاک بھارت تنازع کے دوران آٹھ طیارے گرائے گئے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پاکستانی وزیرِ اعظم نے بھی کہا کہ صدر ٹرمپ نے 10 ملین جانیں بچائیں۔