ترکیہ نے سعودی عرب–پاکستان دفاعی معاہدے میں شمولیت کی کوششیں تیز کر دیں
ترکیہ اب سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان پہلے سے طے پائے دفاعی معاہدے میں باقاعدہ شمولیت کے لیے مذاکرات کو آخری مراحل میں لے آیا ہے، اور ماہرین کے مطابق معاہدے کے طے پانے کے مضبوط امکانات موجود ہیں، جو خطے میں طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلی لا سکتا ہے۔ (بلومبرگ)
موجودہ دفاعی معاہدہ اور ترکی کی شمولیت
گزشتہ سال، پاکستان اور سعودی عرب نے ایک باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت:
-
کسی ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور ہوگا،
-
دونوں ممالک ایک دوسرے کی دفاعی سلامتی کے ضامن ہوں گے۔
اب ترکی کی ممکنہ شمولیت سے یہ دفاعی معاہدہ ایک نئے اسٹریٹجک بلاک کی شکل اختیار کر سکتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سکیورٹی صورتِ حال پر دیرپا اثر ڈالے گا۔
متوقع دفاعی شراکت کے فوائد
تجزیہ کاروں کے مطابق ترکی کی شمولیت سے اتحاد کو درج ذیل کلیدی دفاعی صلاحیتیں حاصل ہوں گی:
-
سعودی عرب: مالی وسائل اور علاقائی اثر و رسوخ
-
پاکستان:
-
ایٹمی صلاحیت
-
بیلسٹک میزائل
-
بڑی افرادی قوت
-
-
ترکی: جدید دفاعی صنعت، فوجی تجربہ اور جدید ٹیکنالوجی
مزید تعاون کے امکانات
ترکی نے اس اتحاد میں مزید گہرائی لانے کے لیے تجاویز بھی پیش کی ہیں، جن میں:
-
پاکستان اور سعودی عرب کو ترکی کے پانچویں جنریشن کے جنگی طیارے (F-35 درجہ) یا مشابہ پروگراموں میں شامل کرنا
-
مشترکہ دفاعی تحقیق، ٹیکنالوجی شیئرنگ اور تربیتی مشقیں
خطے میں ممکنہ اثرات
اس تین فریقی دفاعی معاہدے کے نتیجے میں:
-
مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے
-
خطے میں بڑی طاقتوں کے درمیان نیا دفاعی محور ابھر سکتا ہے
-
علاقائی سکیورٹی تعاون اور مشترکہ دفاعی منصوبوں کو فروغ مل سکتا ہے