ابنِ انشاء کی 47ویں برسی، اردو ادب کا درخشاں باب آج بھی زندہ

0

صدارتی تمغۂ برائے حسنِ کارکردگی حاصل کرنے والے معروف شاعر، مزاح نگار اور سفرنامہ نگار ابنِ انشاء کی آج 47ویں برسی منائی جا رہی ہے۔

ابنِ انشاء کا اصل نام شیر محمد خان تھا۔ وہ 15 جون 1927ء کو جالندھر کے نواحی علاقے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1946ء میں جامعہ پنجاب سے بی اے کیا اور بعد ازاں 1953ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ اردو ادب کے ہمہ جہت فنکار کے طور پر انہوں نے شاعری، مزاح نگاری، تراجم اور سفرنامہ نگاری میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔

ان کی مشہور تصانیف میں چاند نگر، اردو کی آخری کتاب، چلتے ہو تو چین کو چلیے اور دنیا گول ہے شامل ہیں۔ ابنِ انشاء نے دنیا کے مختلف حصوں کا سفر کیا اور اپنے مخصوص طنزیہ و فکاہیہ انداز میں ان تجربات کو تحریر کیا۔ ان کی شاعری میں رومان کی لطافت اور نثر میں عہدِ حاضر کا گہرا شعور جھلکتا ہے، جس نے انہیں اردو ادب میں منفرد مقام عطا کیا۔

ابنِ انشاء 11 جنوری 1978ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے اور کراچی کے پاپوش نگر قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں، تاہم ان کا ادبی ورثہ آج بھی اردو زبان کے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.