تل ابیب میں ہزاروں افراد کا نیتن یاہو حکومت کے خلاف احتجاج، آزاد تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ

0

تل ابیب میں ہزاروں اسرائیلی شہری وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کی تبدیلی کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق مظاہرین نے 7 اکتوبر 2023ء کے واقعات پر ایک آزاد اور خودمختار تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی کیا۔

رپورٹس کے مطابق احتجاج میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ اسرائیلی عوام کی بڑی تعداد نیتن یاہو کی پالیسیوں اور سیاسی فیصلوں سے ناخوش ہے۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ نیتن یاہو عدلیہ کی آزادی کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اپنی سیاسی طاقت کو مستحکم کیا جا سکے اور ان کے خلاف جاری مقدمات میں عدالتوں کا کردار کمزور پڑ جائے۔

احتجاجی مظاہرین نے یہ بھی کہا کہ نیتن یاہو کو کرپشن، فراڈ اور اعتماد کے خلاف غلط بیانی جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہے اور ان کے خلاف مقدمات طویل عرصے سے عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ حالیہ دنوں میں صدر سے معافی کی درخواست پر بھی شدید ردِ عمل سامنے آیا، جسے مظاہرین نے اقتدار میں رہنے اور قانونی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش قرار دیا۔

احتجاج میں شریک یرغمالیوں کے اہلِ خانہ اور دیگر شہریوں کا کہنا تھا کہ حکومت غزہ کی جنگ میں ناکام رہی ہے اور نہ تو صورتحال پر مؤثر کنٹرول حاصل کر سکی ہے اور نہ ہی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوئی قابلِ ذکر پیش رفت کر پائی ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ نیتن یاہو ایسی ڈیل تک پہنچیں جس سے ہر ممکن طریقے سے یرغمالیوں کی رہائی یقینی بنائی جا سکے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.