سابق قبرصی صدر جارج واسلیو 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
قبرص – قبرص کے سابق صدر جارج واسلیو 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی اہلیہ اندرولا واسلیو نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پر بتایا کہ وہ ہسپتال میں پُرسکون طور پر دنیا سے رخصت ہوئے۔ جارج اور اندرولا واسلیو کی شادی کو 59 سال مکمل ہو چکے تھے۔
جارج واسلیو 1988 سے 1993 تک قبرص کے صدر رہے اور انہیں قبرص کو یورپی یونین تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔ ان کی زندگی کے غیر معمولی واقعات میں 1956 کی ہنگرین بغاوت شامل ہے، جب انہوں نے سرد جنگ کے دوران سوویت افواج کی کریک ڈاؤن کی معلومات مغرب تک پہنچائی، جس سے دنیا کو بڈاپیسٹ میں ہونے والے مظالم کے بارے میں غیر سنسر شدہ معلومات ملیں۔
1931 میں قبرص میں کمیونسٹ والدین کے ہاں پیدا ہونے والے واسلیو نے ابتدا میں طب کی تعلیم حاصل کی، مگر بعد میں معاشیات کی طرف رخ کیا اور ہنگری کی کارل مارکس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ 1956 کی ہنگرین بغاوت کے تجربات نے ان کے نظریات کو گہرائی سے متاثر کیا، اور وہ کسی بھی سیاسی جماعت کے رکن نہ بنے۔
واپس قبرص آ کر انہوں نے 1971 میں مارکیٹ ریسرچ کمپنی MEMRB قائم کی، جو مشرقِ وسطیٰ کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہونے لگی۔ 1987 میں صدارتی انتخاب میں حصہ لیا اور 1988 میں غیر متوقع طور پر کامیابی حاصل کی، جس میں انہیں کمیونسٹ جماعت AKEL کی حمایت بھی حاصل ہوئی۔
صدر کی حیثیت سے واسلیو نے قبرصی سیاست میں شفافیت اور احتساب کو فروغ دیا، ٹیکس اصلاحات کیں، غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیاں کیں، اور جزیرے کی تقسیم کے مسئلے پر عالمی رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں رہے۔ ان کے دور میں قبرص نے 1990 میں یورپی یونین کی رکنیت کے لیے درخواست دی، اور بعد ازاں 2004 میں ملک باضابطہ طور پر یورپی یونین کا رکن بنا جبکہ 2008 میں یورو کرنسی اختیار کی گئی۔ انہوں نے قبرص کی پہلی سرکاری یونیورسٹی بھی قائم کی۔
صدارت کے بعد واسلیو نے لبرل جماعت یونائیٹڈ ڈیموکریٹس بنائی، مگر اسے انتخابی کامیابی نہ مل سکی۔ وہ 2004 میں اقوام متحدہ کے تحت قبرص کے اتحاد کے منصوبے کے مضبوط حامی تھے، لیکن یہ منصوبہ ریفرنڈم میں مسترد ہو گیا۔ جارج واسلیو کی زندگی کا خواب قبرص کے یونانی اور ترک باشندوں کے درمیان تقسیم کو ختم کرنا تھا، جو ان کے دور میں پورا نہ ہو سکا۔