ایران پر ممکنہ امریکی حملہ: اہم مقامات کی حفاظت بڑھا دی گئی
تہران – ایران میں حالیہ احتجاج کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد ایران نے اپنے بجلی، پانی اور ٹیلی کام کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت بڑھانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ یہ اقدام ایک ممکنہ مکمل جنگ کے خدشات کی نشاندہی کرتا ہے۔
اسرائیلی ویب سائٹ ’نیٹسیف‘ کے مطابق ایران کی دفاعی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے، جہاں فوکس اب میزائل بیسز اور فوجی تنصیبات سے ہٹ کر توانائی کے نیٹ ورک، پانی کے ٹینکوں اور بندوں کی حفاظت پر منتقل ہو گیا ہے۔ اس سے خطے میں تشویش اور انتظار کی فضا پیدا ہوئی ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔
ایک اعلی ایرانی اہلکار نے بتایا کہ ایران نے خطے کے رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکی تصادم کو روکیں، اور خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے مشی گن سے واشنگٹن واپس آتے ہوئے تہران کو فوجی کارروائی کی عنقریب دھمکی دی اور مظاہرین کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو اس دھمکی سے جوڑا۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو اپنے سابقہ مقابلوں کے نتائج یاد دلائے اور ’’اچھاطرز عمل‘‘ اختیار کرنے کی دعوت دی، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ ممکنہ سخت اقدامات کیا ہوں گے۔