پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان

0

انقرہ – ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ کسی تین ملکی دفاعی معاہدے پر تاحال دستخط نہیں کیے گئے، تاہم اس حوالے سے بات چیت ضرور ہوئی ہے۔

ایک بیان میں حاقان فیدان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون پر مشاورت جاری ہے، لیکن فی الحال کسی باضابطہ معاہدے پر دستخط کی خبریں درست نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ ایران میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے اور خطے میں مسائل کے حل کے لیے سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے۔

بلوم برگ کی رپورٹ کا پس منظر

واضح رہے کہ چند روز قبل بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے رپورٹ دی تھی کہ ترکیہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ بلوم برگ کے مطابق اس انکشاف کا تعلق اس معاملے سے باخبر افراد سے تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ دفاعی اتحاد مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے کے خطوں میں طاقت کے توازن کو نمایاں طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔

پاک–سعودی دفاعی معاہدہ

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ سال ستمبر میں ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں یہ شق شامل ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

یہ شق نیٹو اتحاد کے آرٹیکل فائیو سے مماثلت رکھتی ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ ترکیہ پہلے ہی نیٹو اتحاد کا رکن ہے، جس کے باعث اس ممکنہ تعاون کو جغرافیائی اور اسٹریٹجک اعتبار سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ترک وزیر خارجہ کے حالیہ بیان کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اگرچہ دفاعی تعاون پر بات چیت جاری ہے، تاہم کسی نئے یا توسیعی دفاعی معاہدے پر فوری دستخط کا امکان فی الحال موجود نہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.