جنوبی کوریا: سابق صدر یون سوک یول کو گرفتاری میں رکاوٹ ڈالنے پر پانچ سال قید

0

سیول – جنوبی کوریا کی سیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے سابق صدر یون سوک یول کو گرفتاری میں رکاوٹ ڈالنے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ عدالتی کارروائی یونہاپ نیوز ٹی وی پر براہِ راست نشر کی گئی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق، 3 جنوری 2025 کو صدارتی سکیورٹی سروس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سیول میں یون سوک یول کی رہائش گاہ پر انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا تھا۔ حکام نے دوسری کوشش میں 15 جنوری 2025 کو گرفتاری میں کامیابی حاصل کی۔ اس وقت وہ باضابطہ صدر تھے، تاہم پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذے کے بعد ان کے اختیارات معطل ہو چکے تھے۔

استغاثہ نے اس کیس میں 10 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ یون سوک یول کے خلاف پہلی سطح پر سنایا جانے والا عدالتی حکم ہے۔ جنوبی کوریا کے عدالتی نظام میں عام مقدمات تین درجات پر مشتمل ہوتے ہیں، جن میں اپیلٹ کورٹس اور سپریم کورٹ بھی شامل ہیں۔

یون سوک یول اس وقت مجموعی طور پر آٹھ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں سے چار کا تعلق مارشل لا کے نفاذ سے ہے۔ 13 جنوری 2026 کو ایک علیحدہ مقدمے میں، جس میں ریاست کے خلاف بغاوت کے الزامات شامل ہیں، خصوصی استغاثہ ٹیم نے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔ اس جرم پر قانون کے تحت صرف سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

یاد رہے کہ یون سوک یول نے 3 دسمبر 2024 کو آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد اپریل میں آئینی عدالت نے انہیں عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ یون سوک یول نے مارشل لا کے نفاذ سے متعلق اجلاس میں سات کابینہ ارکان کو مدعو نہ کر کے ان کے حقوق کی خلاف ورزی کی اور سرکاری عہدے کے غلط استعمال سے غیر قانونی دستاویزات تیار کیں۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ یون سوک یول نے محفوظ ٹیلی فون سرورز پر موجود کال لاگز کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود، ملک کے انسدادِ بدعنوانی ادارے کو بغاوت کے الزامات کی تحقیقات کا قانونی اختیار حاصل تھا، اس لیے گرفتاری اور تلاشی کے اقدامات جائز قرار پائے۔

یہ فیصلہ جنوبی کوریا کی سیاسی تاریخ میں سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے، جس نے ملک میں قانون کی بالادستی اور احتساب کے عمل کو مزید نمایاں کیا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.