افغان طالبان میں شدید اختلافات، خانہ جنگی کے خدشات: برطانوی میڈیا

0

کابل – افغانستان میں طالبان رجیم کے اندر شدید اختلافات سامنے آ گئے ہیں، جس کے باعث ملک میں نئی سیاسی اور سکیورٹی بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق، بی بی سی نے طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی لیک شدہ آڈیو جاری کی ہے، جس میں وہ داخلی اختلافات کے باعث طالبان رجیم کے ممکنہ خاتمے کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قندہار میں موجود سخت گیر قیادت افغانستان کو سخت گیر بیانیے کے تحت چلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے مطابق کابل میں موجود وزرا سخت گیر احکامات پر عمل کرنے پر مجبور ہیں، کیونکہ مخالفت کرنے والے وزرا کو سخت سزائیں یا برطرفی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

قندہار سے جاری ہونے والے احکامات میں انٹرنیٹ اور خواتین کی تعلیم پر پابندی شامل ہے، جبکہ کابل میں موجود دھڑا، جس کی قیادت عبدالغنی برادر، ملا یعقوب اور سراج الدین حقانی کر رہے ہیں، سخت گیر نظریات کے خلاف ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ اپنی وفادار فورس تشکیل دے رہے ہیں، جس سے افغانستان دوبارہ خانہ جنگی کے خطرے میں ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے داخلی اختلافات سے نہ صرف سیاسی عدم استحکام بلکہ سکیورٹی بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.