بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کی قیادت میں 10 جماعتی انتخابی اتحاد نے نشستوں کی تقسیم کا اعلان کردیا

0

ڈھاکا – بنگلہ دیش میں آئندہ قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم 10 جماعتی اتحاد نے 300 میں سے 253 حلقوں میں امیدواروں کی تقسیم پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس کے باوجود یہ اتحاد ’11 جماعتی انتخابی اتحاد‘ کہلایا جا رہا ہے کیونکہ اہم اسلامی سیاسی جماعت اسلامی اندولن بنگلہ دیش اب تک معاہدے میں شامل نہیں ہوئی۔

پریس کانفرنس میں اتحاد کے رہنماؤں نے بتایا کہ اسلامی اندولن کے لیے 47 نشستیں خالی رکھی گئی ہیں اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ یہ جماعت بالآخر اتحاد کا حصہ بن جائے گی۔
نشستوں کی تقسیم کے مطابق:

  • جماعتِ اسلامی: 179

  • نیشنل سٹیزن پارٹی: 30

  • بنگلہ دیش خلافت مجلس: 20

  • خلافت مجلس: 10

  • لبرل ڈیموکریٹک پارٹی: 7

  • اے بی پارٹی: 3

  • بنگلہ دیش ڈیولپمنٹ پارٹی: 2

  • نظامِ اسلام پارٹی: 2

بنگلہ دیش خلافت اندولن اور نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اتحاد کا حصہ رہیں گی لیکن کسی حلقے میں امیدوار نہیں کھڑے کریں گی۔

جماعتِ اسلامی کے نائب امیر سید عبداللہ محمد طاہر نے کہا کہ یہ انتخابات صرف اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ وجود کے تحفظ اور ایک نئے بنگلہ دیش کی تعمیر کی جدوجہد ہیں۔ اتحاد کے امیر شفیق الرحمان نے وضاحت کی کہ اسلامی اندولن کی غیر موجودگی کے باوجود اتحاد برقرار ہے اور بات چیت کا عمل جاری ہے۔

دوسری جانب اسلامی اندولن بنگلہ دیش نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعہ کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے الگ بریفنگ دیں گے، جبکہ پارٹی کے ایک سینیئر رہنما کے مطابق جماعتِ اسلامی کے ساتھ حتمی معاہدے کے امکانات ‘انتہائی کم’ ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں تعطل کی بنیادی وجہ نشستوں کی تقسیم تھی۔ ابتدائی طور پر اسلامی اندولن نے 80 نشستیں طلب کیں، بعد میں 70 تک کم کیں، جب کہ جماعتِ اسلامی 45 سے زیادہ نشستیں دینے پر راضی نہیں تھی۔ آخری لمحات میں ثالثی کے باوجود کوئی مکمل سمجھوتہ نہ ہو سکا، اس لیے 47 نشستیں اسلامی اندولن کے لیے مختص کی گئیں تاکہ اتحاد کو برقرار رکھا جا سکے۔

واضح رہے کہ 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات 12 فروری 2026 کو منعقد ہوں گے، جس کے ساتھ آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم بھی ہوگا۔ ملک بھر میں 2,568 کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے جا چکے ہیں جبکہ 20 جنوری کو دستبرداری کی آخری تاریخ ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلامی اندولن جیسی بڑی اسلامی سیاسی قوت کی علیحدہ شناخت اتحاد کے ووٹ بینک کو کمزور کر سکتی ہے، تاہم جماعتِ اسلامی کی جانب سے وسیع اتحاد بنانے کی کوشش اہم انتخابی حکمت عملی قرار دی جا رہی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.