یورپی فوجی دستے گرین لینڈ پہنچنا شروع ہو گئے، امریکی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ وائٹ ہاؤس
واشنگٹن / کوپن ہیگن – خبر ایجنسی کے مطابق یورپی ممالک کے فوجی دستے گرین لینڈ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں فرانس، جرمنی، ناروے اور سویڈن نے آرکٹک خطے میں سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے محدود تعداد میں فوجی تعینات کر دیے ہیں۔
یورپی حکام اس اقدام کو ’ریکنائسنس مشن‘ یعنی جائزہ اور نگرانی کا مشن قرار دے رہے ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کا کہنا ہے کہ ابتدائی فوجی دستے کو جلد ہی زمینی، فضائی اور بحری اثاثوں کے ذریعے مزید مضبوط کیا جائے گا تاکہ خطے میں سکیورٹی تقاضوں کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈنمارک، گرین لینڈ اور امریکا کے درمیان گرین لینڈ کے مستقبل سے متعلق مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ مذاکرات کے دوران فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات واضح طور پر سامنے آئے، جس کے بعد خطے میں اسٹریٹجک بے یقینی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے یورپی فوجی تعیناتی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے امریکی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کے مطابق یورپی فوجی دستوں کی موجودگی نہ تو صدر کے فیصلے پر اثر انداز ہوگی اور نہ ہی گرین لینڈ سے متعلق امریکی اہداف کو متاثر کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں عالمی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹجک مسابقت کی عکاس ہیں، جہاں قدرتی وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع اور سلامتی کے معاملات تیزی سے عالمی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔