وائٹ ہاؤس نے غزہ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے تحت دو نئی کمیٹیوں کی ذمہ داریاں کا اعلان کر دیا

0

واشنگٹن — وائٹ ہاؤس نے غزہ کی جنگ کے بعد کے انتظامی، سیاسی اور سلامتی امور کی نگرانی کے لیے دو نئی اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کے قیام بارے تفصیلات جاری کی ہیں ان کمیٹیوں کوامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس وژن کو عملی شکل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ ڈھانچہ غزہ میں استحکام، تعمیرِ نو، حکمرانی اور طویل المدتی ترقی کے عمل کی نگرانی کرے گا۔

بانی ایگزیکٹو بورڈ تشکیل

پہلی کمیٹی بانی ایگزیکٹو بورڈ کے نام سے قائم کی گئی ہے، جو سفارت کاری، ترقی، بنیادی ڈھانچے اور عالمی معیشت میں تجربہ رکھنے والی بین الاقوامی شخصیات پر مشتمل ہے۔

اس بورڈ کے ارکان میں شامل ہیں:

  • امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

  • امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف

  • صدر ٹرمپ کے سینئر معاون جیرڈ کشنر

  • برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر

  • اپولو گلوبل مینجمنٹ کے سی ای او مارک روون

  • ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا

  • ٹرمپ کے سابق نائب قومی سلامتی مشیر رابرٹ گیبریل

وائٹ ہاؤس کے مطابق “ایگزیکٹو بورڈ کا ہر رکن غزہ کے استحکام اور طویل مدتی کامیابی کے لیے ایک مخصوص پورٹ فولیو کی نگرانی کرے گا، جن میں حکمرانی کی صلاحیت، علاقائی تعلقات، تعمیر نو، سرمایہ کاری، بڑے پیمانے پر فنڈنگ اور سرمائے کی نقل و حرکت شامل ہوں گے۔”

غزہ ایگزیکٹو بورڈ کا قیام

دوسری کمیٹی غزہ ایگزیکٹو بورڈ کے نام سے قائم کی گئی ہے، جس کا مقصد مؤثر طرز حکمرانی اور غزہ کے عوام کے لیے امن، استحکام اور خوشحالی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

اس بورڈ کے ارکان میں شامل ہیں:

  • اسٹیو وٹکوف

  • جیرڈ کشنر

  • ٹونی بلیئر

  • مارک روون

  • ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان

  • سینئر قطری سفارت کار علی تھاوادی

  • مصری انٹیلی جنس کے سربراہ حسن رشاد

  • متحدہ عرب امارات کی وزیر برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی

  • اسرائیلی-قبرصی کاروباری شخصیت یاکر گابے

  • اقوام متحدہ کے سابق مشرق وسطیٰ کوآرڈینیٹر نکولے ملاڈینوف

نکولے ملاڈینوف کو غزہ کا اعلیٰ نمائندہ مقرر

وائٹ ہاؤس کے مطابق نکولے ملاڈینوف کو غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔

اس حیثیت میں وہ:

  • بورڈ آف پیس

  • اور غزہ کے انتظام کے لیے فلسطینی قومی ٹیکنوکریٹک کمیٹی (NCAG)

کے درمیان زمینی رابطہ کار کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔

وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ قاہرہ میں فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل NCAG نے ملاڈینوف کے ساتھ اپنی پہلی باضابطہ ملاقات کی، جس میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف نے آن لائن شرکت کی۔

بیان کے مطابق:

“ملاڈینوف غزہ کی حکمرانی، تعمیر نو اور ترقی کے تمام پہلوؤں پر بورڈ کی نگرانی کی معاونت کریں گے اور شہری و سلامتی ستونوں میں ہم آہنگی یقینی بنائیں گے۔”

دونوں بورڈز کے کردار ابہام کا شکار

وائٹ ہاؤس کے اعلان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بانی ایگزیکٹو بورڈ اور غزہ ایگزیکٹو بورڈ کے عملی اختیارات میں بنیادی فرق کیا ہوگا، کیونکہ دونوں کے اہداف اور ارکان جزوی طور پر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں بورڈز کے مزید ارکان کا اعلان آنے والے ہفتوں میں کیا جائے گا۔

اسی کے ساتھ صدر ٹرمپ کے دو موجودہ معاونین:

  • آریہ لائٹ اسٹون

  • جوش گروینبام

کو بورڈ آف پیس کے سینئر مشیر مقرر کیا گیا ہے۔

فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کا کردار

دونوں امریکی بورڈز فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی NCAG کے ساتھ مل کر کام کریں گے، جس کی سربراہی فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر منصوبہ بندی علی شات کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے علی شات کو:

“ایک وسیع پیمانے پر قابل احترام ٹیکنوکریٹک رہنما”

قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ:

  • بنیادی عوامی خدمات کی بحالی

  • سول اداروں کی تعمیر نو

  • اور غزہ میں روزمرہ زندگی کے استحکام

کی نگرانی کریں گے، تاکہ خطہ طویل المدتی خود انحصاری کی جانب بڑھ سکے۔

بین الاقوامی استحکام فورس (ISF)

غزہ کی سیکیورٹی کے لیے قائم کی جانے والی انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) کے حوالے سے وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ:

  • امریکی سینٹرل کمانڈ کے اسپیشل آپریشنز کمانڈر
    میجر جنرل جیسپر جیفرز
    کو اس فورس کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔

ان کے ذمے:

  • سیکیورٹی آپریشنز کی قیادت

  • انسانی امداد کی ترسیل کا تحفظ

  • اور تعمیر نو کے سامان کی محفوظ رسائی

ہوگی۔

تاہم امریکی حکام کو دیگر ممالک سے فوجی شراکت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ آذربائیجان نے رواں ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ اس فورس میں شرکت نہیں کرے گا۔

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ اب متعدد ممالک نے فوجی تعاون کی پیشکش کی ہے، جن کا باضابطہ اعلان آئندہ دو ہفتوں میں متوقع ہے۔

محدود مینڈیٹ کی تصدیق

امریکی بریفنگ میں اس امر کی بھی تصدیق کی گئی کہ ISF کا مینڈیٹ ممکنہ طور پر محدود ہوگا، جس میں:

  • سرحدی نگرانی

  • انسانی امداد کی حفاظت

شامل ہوں گے، جبکہ حماس کو غیر مسلح کرنے جیسی براہِ راست کارروائیاں اس کے دائرہ اختیار میں شامل نہیں ہوں گی۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق “غزہ کے اندر سیکیورٹی کا بڑا حصہ مقامی فلسطینی پولیس فورس سنبھالے گی۔”

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.