سلمان خان کا فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی محاذ، ریلیز روکنے کا مطالبہ

ممبئی: بالی ووڈ کے معروف اداکار سلمان خان نے مجوزہ فلم ’کالا ہرن‘ کے پروڈیوسرز اور متعلقہ ٹیم کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ فلم میں ان کی شخصیت، شہرت اور ماضی کے قانونی مقدمے کو بغیر اجازت استعمال کیا جا رہا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے فلم کے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے سمیت متعلقہ فریقین کو قانونی نوٹس بھجوایا ہے۔ نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فلم کی تشہیری مہم، ٹیزر، پوسٹرز اور ممکنہ ریلیز کو فوری طور پر روکا جائے۔

قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فلم کا موضوع اور اس کی تشہیر 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے مشابہت رکھتی ہے، جس میں سلمان خان کا نام ماضی میں سامنے آ چکا ہے۔ سلمان خان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ اداکار نے نہ تو اپنے نام، تصویر یا شناخت سے ملتے جلتے عناصر کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کسی قسم کی رضامندی ظاہر کی ہے۔

سلمان خان کی قانونی ٹیم کے مطابق فلم میں ایسا کردار پیش کیا جا رہا ہے جو ظاہری طور پر اداکار سے مشابہت رکھتا ہے۔ پوسٹر میں دکھائے گئے کردار کے ہاتھ میں بندوق موجود ہے جبکہ اس نے سلمان خان کے معروف فیروزہ رنگ کے بریسلٹ جیسا بریسلٹ بھی پہن رکھا ہے، جس سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ فلم براہِ راست سلمان خان کی زندگی سے متعلق ہے۔

وکلاء نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس نوعیت کی پیشکش نہ صرف ہتکِ عزت کے زمرے میں آ سکتی ہے بلکہ راجستھان ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمے پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ہر شہری کی طرح سلمان خان کو بھی منصفانہ عدالتی کارروائی کا حق حاصل ہے اور ایسی فلمیں عدالتی عمل کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔

دوسری جانب فلم کے ڈائریکٹر بھرت ایس شرینیت اور پروڈیوسر امیت جانی نے سلمان خان کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم حقیقی عدالتی اور قانونی واقعات سے متاثر ضرور ہے، تاہم اس کا مقصد کسی فردِ واحد کو نشانہ بنانا نہیں۔ پروڈکشن ٹیم نے قانونی نوٹس کو دباؤ ڈالنے اور فلم کی تیاری میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

فلم سازوں نے حال ہی میں ’کالا ہرن‘ کا پہلا پوسٹر جاری کیا تھا جبکہ 20 جون کو اس کا ٹیزر ریلیز کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ تاہم سلمان خان کی جانب سے قانونی کارروائی کے بعد فلم کی ریلیز اور تشہیری مہم کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے