شام میں کرد فورسز متنازعہ شمالی علاقے سے دستبردار، دیر حافر میں کشیدگی بڑھ گئی
دیر حافر، شام— شام میں کرد زیر قیادت سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے رہنما مظلوم عبدی نے اعلان کیا ہے کہ وہ شمالی شام کے متنازعہ علاقے سے دستبردار ہو جائیں گے، جس کے بعد ممکنہ طور پر حکومتی فورسز کے ساتھ ایک بڑی جھڑپ شروع ہو سکتی ہے۔
شامی فوج نے SDF کے ٹھکانوں پر حملے کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ SDF نے حلب کے مشرق میں دیر حافر قصبے میں "شدید توپ خانے سے گولہ باری” کی اطلاع دی ہے۔ اس پیش رفت سے قبل ایک امریکی فوجی وفد نے دیر حافر کا دورہ کیا اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے SDF حکام سے ملاقات کی۔
مظلوم عبدی نے ایک بیان میں کہا کہ "دوست ممالک اور ثالثوں کی کالز اور نیک نیتی کے مظاہرے کی بنیاد پر، SDF ہفتے کی صبح دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں اپنی افواج کو دوبارہ تعینات کرے گا۔” عبدی کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شامی صدر احمد الشرع نے کرد شہریوں کے حقوق کو مضبوط کرنے کے لیے ایک خصوصی فرمان جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔
شامی حکومت اور SDF کے درمیان اس متنازعہ علاقے میں کشیدگی بین الاقوامی ثالثوں کی نگرانی میں ہے، اور امریکہ سمیت دیگر ممالک نے دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ پرامن رہیں۔